نئی دہلی، 5 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )دہلی ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل اور1984کے سکھ مخالف فسادات پر بنی ایک فلم کی ریلیز کے خلاف دائر درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ درخواست کا مسودہ بہت خراب طریقے سے تیار کیا گیا ہے اور اس معاملے میں سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ(سی بی ایف سی)سے رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس سنگیتا ڈھینگرا سہگل نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ اس معاملے پر ان لوگوں کو پہلے سی بی ایف سی سے رابطہ کرنا چاہیے ۔بنچ نے کہاکہ مفادعامہ کی اس درخواست کا مسودہ بہت ہی خراب طریقے سے تیار کیا گیا ہے،یہ ایک مفاد عامہ عرضی نہیں ہو سکتی۔اس میں سی بی ایف سی کو فریق نہیں بنایا گیا ہے۔مناسب دستاویزات نہیں ہیں اور ضروری فریقوں کو مدعا علیہ نہیں بنایا گیا ہے۔اس نے ساتھ ہی کہاکہ آپ لوگوں کو پہلے سی بی ایف سی سے رابطہ کرنا چاہیے ۔مزید محنت کے ساتھ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔آپ بہتر مفاد عامہ کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔ہم لوگ اس درخواست پر سماعت نہیں کر سکتے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے شروع میں کہا کہ بنچ کو اس معاملے کی سماعت کرنی چاہیے کیونکہ ’’31اکتوبر‘‘ نامی فلم 7 ؍اکتوبر کو ریلیز ہو رہی ہے لیکن بعد میں انہوں نے اپنی درخواست واپس لے لی۔درخواست گزار اجے کٹارا نے دعوی کیا کہ فلم کے ٹریلر، پوسٹر اور بینر سے ایسا لگتا ہے کہ یہ فلم ملک کی سب سے پرانی پارٹی کے نظریات کے خلاف ہے۔غورطلب ہے کہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو 31؍اکتوبر 1984کو قتل کر دیا گیا تھا ۔درخواست میں الزام لگایا ہے کہ سوہا علی خان اور ویر داس کے اہم کردار والی اس فلم کے کئی مناظر میں ملک کی ایک سیاسی شخصیت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔حالانکہ درخواست میں اس شخص کا نام نہیں لیا گیا ہے۔