ممبئی،23؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سی بی آئی نے کہا کہ وہ سہراب الدین شیخ کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر معاملے میں بی جے پی صدر امت شاہ کو الزام سے بری کرنے کے اس کے فیصلے کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں دائر مفاد عامہ کی عرضی کی مخالفت کرے گی۔واضح ہوکہ سی بی آئی اورتفتیشی ایجنسیوں پراپوزیشن کوپریشان کرنے اورحکومت کے افرادکی پشت پناہی کے سنگین الزامات اپوزیشن پارٹیاں لگاتی رہی ہیں۔ان کاکہناہے کہ یہ ایجنسیاں سرکارکے اشار ے پرکام کررہی ہیں۔گزشتہ ہفتے ممبئی لیرس ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی میں یہاں کی ایک خصوصی عدالت کی طرف سے شاہ کو الزام سے بری کرنے کے 30 دسمبر، 2014 کے حکم کو چیلنج نہ دینے کی سی بی آئی کی کارروائی کو غیر قانونی بتایا گیا۔سی بی آئی کے وکیل انیل سنگھ نے ہائی کورٹ میں کہاکہ ہم عرضی کی مخالفت کر رہے ہیں۔الزام سے بری کرنے کا حکم دسمبر، 2014کا ہے، اسے لے کر میعاد کا مسئلہ ہے۔جسٹس ایس سی دھرمادھکاری اور بھارتی دانگرے کی ایک بینچ نے سی بی آئی وکیل کے وقت مانگنے پر درخواست کو لے کر سماعت کرنے کے لئے 13 فروری کی تاریخ مقرر کی۔درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل دشینت دیو نے بنچ سے کہا کہ درخواست میں ہائی کورٹ انتظامی کمیٹی سے اس بات کے بھی ریکارڈ مانگے گئے ہیں کہ معاملے میں شروعات میں جس سی بی آئی جج کو سماعت کا کام سونپا گیا تھا، ان کا تبادلہ کیوں کیا گیا۔درخواست میں کہا گیاکہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ انتظامی کمیٹی بھی یقینی بنائے گی کہ ایک ہی افسر معاملے میں ابتدا سے اخیر تک سماعت کرے گا۔اس پر جسٹس دھرمادھکاری نے کہاکہ ہم یہ درخواست گزارپر چھوڑ دیتے ہیں لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ادارے(ہائی کورٹ)کو جہاں تک ممکن ہودور رکھا جانا چاہئے۔ہم وکیل دیو سے اس پر مناسب فیصلہ لینے کی درخواست کرتے ہیں۔