لہ آباد 6نومبر ( آئی این ایس انڈیا ) اترپردیش کے الہ آباد میں مسلم اکثریتی علاقہ بالخصوص کریلی اور وصی آباد میں واقع سلم ایریا میں رہنے والے بہاری اور بنگالی مسلمانوں کو شر پسندوں کی طرف سے مستقل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سلم ایریا میں رہنے والے بیرون ریاستی باشندوں کو غیر ملکی قرار دینے کی مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ سلم ایریا میں رہنے والے بہاری اور بنگالی مسلمانوں کے پاس آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور ووٹر آئی ڈی جیسے قانونی دستا ویزات موجود ہیں۔بستی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی قومیت پر سوال کھڑا کرکے ان میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
الہ آباد کے مسلم اکثریتی علاقوں میں واقع سلم بستیوں میں بہار، جھار کھنڈ اور بنگال سے تعلق رکھنے والے غریب اور محنت کش افراد بڑی تعداد میں رہتے ہیں جو شہر کے مختلف علاقوں میں دہاڑی مزدوی کر تے ہیں ان میں اکثر افراد رکشہ چلاتے ہیں ۔ شہر کے بعض سلم علاقوں میں تو لوگ تیس تیس سال سے آباد ہیں۔ لیکن گذشتہ چند مہینوں سے بعض شرپسند عناصر کی طرف سے ان کو بنگلہ دیشی قرار دینے اور ان کو ملک کی سا لمیت کے لئے خطرہ بتانے کی مہم سی چلی ہوئی ہے۔ اس صورت حال سے سلم میں رہنے والے افراد میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔لیکن گذشتہ چند مہینوں سے بعض شرپسند عناصر کی طرف سے ا ن کو بنگلہ دیشی قرار دینے اور ان کو ملک کی سالمیت کے لئے خطر بتانے کی مہم سی چلی ہوئی ہے۔ اس صورت حال سے سلم میں رہنے والے افراد میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے ۔
سلم بستیوں میں رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں افواہیں اڑائی جا رہی ہیں ہے کہ ان کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور یہ لوگ سماج میں دہشت گردی کو بڑھا وا دے رہے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے بھی اس طرح کی افواہ اڑانے والوں کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ یہی نہیں مقامی انتظامیہ نے اس مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔سلم ایریا میں رہنے والے مکینوں کاکہنا ہے کہ حکومت جب چاہے کہ ان کی جانچ کرا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جانچ میں کوئی غیر ملکی نکلے تو حکومت ان کو ملک بدرکر نے کا حق رکھ سکتی ہے ۔سلم بستیوں میں رہنے والے مسلمانوں میں اس بات کو لے کر سخت ناراضگی ہے کہ ان کی شہریت کے قا نونی دستاویزات ہونے کے با وجود ان کو غیر ملکی کہا جا رہا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کے وقت لیڈران ان کے ووٹ تو حاصل کر لیتے ہیں ، لیکن جب ان کو غیر ملکی کہہ کر بد نام کیا جاتا ہے اوران کو ملک سے باہر نکالنے کی بات کہی جا تی ہے تو سیاسی لیڈارن خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ اس ذیل میں شہر کی بھگوا جماعت اور تنظیم حتمی رخ اختیار کئے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان سلم ایریا میں رہنے والے غیر ملکی بھی ہیں اور بغیر کسی قانونی مجاز کے قیام ملک کے لئے خطرہ ہے ۔