الال 15/نومبر(ایس او نیوز)پچھلے دو چار دنوں سے الال اور اس کے اطراف ناخوشگوار واقعات اور تشدد کا جو سلسلہ چل پڑا ہے اس کی وجہ سے کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔روز کہیں نہ کہیں سے کسی واردات کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔
تشدد کی تازہ واردات میں موٹر سائیکل سوار کچھ اجنبی نوجوانوں نے کائیرانگلا نامی علاقے میں مدرسہ جانے والے ایک چھوٹے سے طالب علم پر چاقو سے حملہ کرکے اسے زخمی کردیا۔ اس واقعہ کے ملزمین کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے مونگوگولی اور مانجا ناڈی علاقے میں احتجاجی بند منایا گیا۔ دکانیں اور دفتر پوری طرح بند رہے۔ سٹی بسیں بھی سڑکو ں سے دور ہی رہیں کیونکہ مختلف علاقوں میں راستے پر رکاوٹیں کھڑی کرکے گاڑیوں کی آمد و رفت روک دی گئی تھی۔
اس کے علاوہ الال سے موصولہ خبر کے مطابق یہاں کی رحمانیہ مسجد پر شرپسندوں نے آدھی رات کے وقت سنگباری کی۔جس سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور بڑے بڑے پتھر مسجد کے اندر پڑے پائے گئے۔ یاد رہے کہ دو تین دن قبل شرپسندوں نے رات کے وقت کھپریل اتار کر ایک اور مسجد میں گھس کر قرآن پاک کے نسخوں جلا ڈالاتھا۔
اسی دوران الال کے کوناجے نامی علاقے میں پولیس نے بائک پر سوار دو شرپسندوں کو تلوار کے ساتھ گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار شدہ نوجوانوں کی شناخت دھنش اور شرتھ کے طور پر کی گئی ہے جو موڈوپو گاوں کے رہنے والے ہیں۔ان دونوں کی عمر 25سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔ گمان کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ زعفرانی بریگیڈ کے کارکنان ہیں۔ اور کسی پر بھی تلوار سے اچانک حملہ کرکے فرار ہونے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے جس سے فرقہ وارانہ تناؤ میں اضافہ اور امن و امان کی صورتحال بگاڑنے کی سازش کامیاب ہوجاتی۔ان دونوں کی گرفتای کی تصدیق کرتے ہوئے اسسٹنٹ پولیس کمشنراین ایس شروتھی نے کہا کہ پولیس ان کے سابقہ حملوں میں شامل ہونے کے تعلق سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔خیال رہے کہ10نومبر سے اب تک اس طرح موٹر بائک سواروں کے ذریعے اچانک کسی پربھی چاقو یا کسی دھاروالے ہتھیار سے حملہ کرکے فرار ہونے کے اب تک چار واقعات ہوچکے ہیں۔حالانکہ پولیس کی نگرانی تیز کردی گئی ہے مگر روزانہ ہونے والے ایک نہ ایک واقعے کو دیکھتے ہوئے عوام کے اندر سخت تشویش پید ا ہوگئی ہے۔