ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اسلامی عائلی قوانین ایمان کاحصہ ،تبدیلی کی کوئی کوشش ناقابل قبول

اسلامی عائلی قوانین ایمان کاحصہ ،تبدیلی کی کوئی کوشش ناقابل قبول

Wed, 01 Jun 2016 21:07:34    S.O. News Service

 

شریعت اسلامی سے نابلدمسلم ناخواندہ طبقہ کو میڈیا کی سرخیوں میں پیش کیا جارہا ہے

مسلم خواتین مسلم پرسنل لا میں مداخلت برداشت نہیں کریں گی،بورڈکی رکن امیرالنساء نے بیان کی سخت مذمت کی

نئی دہلی یکم جون(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا) محترمہ اے ۔امیر النساء رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈچنئی تاملناڈو نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ ملک میںیکساں سول کوڈ کے نفاذ اور مسلم پرسنل لا میں مداخلت کیلئے سیاسی اور عدلیہ کی سطح پر کوشش تیز تر کردی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پرمرکزنے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے نامزد کی گئی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں قانون فسخ مسلم شادی1939 میں ترمیم کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کی وجہ سے خواتین شادی شدہ زندگی میں انتہائی غیرمحفوظ ہوجاتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں محض مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی خاطرمسلم خواتین کی مظلومیت کاڈھنڈوراپیٹ رہی ہیں اور یہ تأثر بھی دیاجارہا ہیکہ طلاق کی سب سے زیادہ شرح مسلم معاشرہ میں ہے اور مسلم خواتین طلاق ثلاثہ کے اسلامی قانون سے تنگ آچکی ہیں۔ میڈیا کی لگا م اکثریتوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کی ہر ممکن کوشش ہیکہ طلاق کے مسئلہ کو سیاق و سباق سے ہٹاکر مسلم پرسنل لا کو بدنام کریں اورکسی نہ کسی طرح اسلام کی شبیہ کوبگاڑاجائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسا مسلم ناخواندہ طبقہ جو شریعت اسلامی سے بالکل نابلد ہے اس کو میڈیا کی سرخیوں میں پیش کیا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ حال ہی میں مشہور صحافی سعدیہ دہلوی کا ایک مضمون ٹائمز آف انڈیامیں شائع ہوا ۔ جس میں انھوں نے مسلم پرسنل لا کی برخواستگی کا پرزور مطالبہ کیا۔ دراصل مغرب شریعت اسلامی کے آفاقی قوانین سے نابلد ہے اوردوسروں کو گمراہ کررہاہے۔ اسی طرح پرنٹ میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر ایسے نام نہاد مسلم خواتین وحضرات کو پیش کیا جارہا ہے جو شریعت اسلامی کے ازلی دشمن اور مسلم پرسنل لا سے بغض و عناد رکھتے ہیں۔ مسلم اسکالرس اورعلماء و دانشوروں کو ٹی وی چینلوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع نہیں دیا جارہا ہے۔مسلم خواتین اور تعلیم یافتہ دین سے ناواقف لڑکیوں کو شریعت اسلامی کے خلاف ورغلانے اور اسلام کے خلاف ذہن سازی کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت کے اشاروں پر عوامی سطح پرایک ایسے ڈیبیٹ کو چھیڑا گیا ہے جس میں مباحث کرنے والے اکثر مرد و خواتین شریعت اسلامی سے ناواقف اورنابلدہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم مسلم خواتین ہند شریعت میں کسی بھی طرح کی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کرینگے۔اسلامی عائلی قوانین ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔اس سے اعراض سراسر اسلام سے بغاوت ہے۔ شریعت اسلامی دنیا کا واحد کامیاب ایسا غیر تبدیل شدہ قانون ہے جو 14 سو سال سے من وعن نافذ ہے۔ہم متحدہ طورپرایسی تمام کوششوں کی مذمت کرتے ہیں جس میں مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

 


Share: