القدس29دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے نے مصری لکھاری یوسف زیدان کے ایک حالیہ بیان پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اس بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’ یروشلیم (بیت المقدس) میں واقع مسجد درحقیقت مسجد الاقصیٰ نہیں ہے اور یروشلیم کوئی مقدس جگہ نہیں ہے‘‘۔اسرائیلی سفارت خانے نے اپنے فیس بْک صفحے پر لکھا ہے:’’ ہم سکہ بند لکھاری یوسف زیدان کے بیانات پر بہت خوش ہیں۔انھوں نے اتوار کی شب عمرو ادیب کے ساتھ آن ٹی وی پر ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ یہود اور مسلمانوں کے درمیان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل سے لے کر آج تک اچھے تعلقات استوار رہے ہیں ‘‘۔سفارت خانے نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا ہے:’’ اس میں شک نہیں کہ زیدان کا پیغام طرفین کے درمیان نفرت کے کلچر کے خاتمے کے لیے ہمارے نقطہ نظر سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔یہود اور مسلمانوں کے درمیان تعاون سے مصریوں اور اسرائیلیوں دونوں کو فائدہ پہنچے گا اور یہ دونوں ملکوں کے عوام کی بھی ایک بڑی خدمت ہوگی‘‘۔فیس بْک پر اسرائیلی سفارت خانے کی اس پوسٹ کے خلاف بہت سے صارفین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے ایک نے لکھا ہے:’’ ہم مسلمان ہمیشہ پْرامن رہے ہیں لیکن آپ نے ہمیشہ ہمیں پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ،ہمارے نوجوانوں ، بچوں اور بوڑھوں کو قتل کیا ہے اور پھر بھی مطمئن نہیں ہوئے ہو ‘‘۔مصری پارلیمان کے ارکان نے بھی زیدان کے اس بیان پر کڑی تنقید کی ہے اور مسجد الاقصیٰ سے متعلق ان کے دعوے کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں۔مسٹر زیدان ماضی میں فلسطینیوں کو خود کو مظالم کا شکار کرنے کا ذمے دار قرار دے چکے ہیں اور ان کا یہ کہنا تھا کہ ’’ الاقصیٰ زخمی ہے اور یروشلیم قبضے میں ہے‘‘ ایسے نعروں سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔انھوں نے اس لکھاری کے جامعہ الازہر کے بارے میں جارحانہ بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان صاحب کا یہ کہنا ہے کہ مصر میں یہ قدیم جامعہ پسماندگی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ پارلیمان کے ارکان کا کہنا ہے کہ زیدان کی تاریخ سے کھلواڑ اور تاریخی حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے کا عمل رکوایا جائے۔زیدان اسلامی تاریخ کے بارے میں اپنے اس متنازع نقطہ نظر کی وجہ سے تنازعات کھڑے کرتے رہتے ہیں اور ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس طرح کے بیانات کے ذریعے اسرائیل کے’’ حقیقی وفادار خادم‘‘ ثابت ہورہے ہیں۔