نئی دہلی، 2/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ راؤس ایوینیو کورٹ نے کیجریوال کو عبوری ضمانت کی مدت ۷؍دن کی بڑھانے کی درخواست پر کوئی راحت نہیں دی بلکہ اس پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے ۵؍ جون کو اگلی شنوائی کا حکم دیا جس کے بعد یہ طے ہو گیا ہے کہ کیجریوال کو اتوار یعنی ۲؍ جون کو جیل جانا ہی پڑے گا۔ ای ڈی نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ کیجریوال نے حقائق کو چھپایا ہے اور اپنی صحت سمیت کئی معاملوں میں جھوٹے بیانات دیئے۔ اس کے جواب میں کیجریوال کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل بیمار ہیں اور انہیں علاج کی ضرورت ہے۔ اس پرسالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے کہا کہ کیجریوال ٹیسٹ کرانے کے بجائے مسلسل ریلیاں کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کیجریوال کا وزن کم ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ تشار مہتا نے مزید دعویٰ کیا کہ کیجریوال کا وزن ایک کلو بڑھ گیا ہے۔ کیجریوال کے وکیل ہری ہرن نے کہا کہ ای ڈی یہ تجویز کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ جو شخص بیمار ہے یا جس کی طبی حالت خراب ہے اس کا کوئی علاج نہیں ہوگا؟
بہر حال عدالت نے اس معاملے میں سماعت ملتوی کرتے ہوئے ۵؍ جون کوسماعت کی تاریخ مقرر کردی۔ یاد رہے کہ کیجریوال نے عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ اچانک اور غیر واضح طور پر وزن میں کمی کے ساتھ کیٹون کی بلند سطح کے پیش نظر انہیں سی ٹی اسکین سمیت کئی طبی ٹیسٹ کروانےہوں گے۔ ایسے میں ان کی ضمانت میں سات دن کی توسیع کی جانی چاہئے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ نے پہلے یہ عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی تھی لیکن وہاں بنچ نے سماعت سے انکار کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے جلد سماعت کے لئے سپریم کورٹ کی رجسٹری سے درخواست کی لیکن وہاں بھی کیجریوال کو مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ اس کے بعد وہ نچلی عدالت سے رجوع ہوئے جس نے یکم جون کی تاریخ مقرر کی تھی لیکن یہاں سے بھی انہیں راحت نہیں ملی جس سے یہ طے ہو گیا کہ انہیں خودسپردگی کرنی ہی ہو گی۔