حیدرآباد:11/مئی(ایس او نیوز /آئی این ایس انڈیا)ماسٹر آف سوشل ورک، عصری تعلیمی نظام کا ایک معروف پیشہ ورانہ کورس ہے۔ اس کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ کمرہئ تدریس کے علاوہ اس کا درس و اکتساب فیلڈ ورک تربیت پر مشتمل ہے۔ کورس کے تحت طلبہ کو سرکاری، غیر سرکاری اور دیگر مقامات پر وسیع فیلڈ ٹریننگ دی جاتی ہے۔اس کورس کے فارغین کے لیے روزگار کے وافر مواقع ہیں جس کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ سوشل ورک کے پیشہ ور افراد کی سرکاری اداروں کے فلاحی شعبوں، غیر سرکاری اداروں، کمپنیوں، اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر میدانوں میں ضرورت ہوتی ہے۔گذشتہ چند برسوں سے شعبہئ سوشل ورک، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں اردو ذریعہ سے نہایت معمولی فیس پر پی ایچ ڈی اور ایم ایس ڈبلیو کورس چلائے جارہے ہیں۔ کمرہئ تدریس اور فیلڈ ورک کے علاوہ اسکل لیب کے ذریعے طلبہ کو مختلف با معنی سرگرمیوں میں مصروف کیا جاتا ہے۔ اس سے ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی سمت سازی میں مدد ملتی ہے۔ شعبہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ایم ایس ڈبلیو کورس کے اختتام تک تقریباً طلبہ کو مقامی اور قومی سطح کے اداروں میں ملازمت مل جاتی ہے۔ انہیں ابتدائی دور میں اوسطاً 20 تا 25 ہزار روپئے تنخواہیں ملتی ہیں لیکن ان کی مسلسل سخت محنت کے باعث اس میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ کورس کے دوران اور آخری سمسٹر کے بعد طلبہ کو 2 مہینے کے لیے کسی معروف ادارے میں انٹرن شپ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کئی طلبہ کو ان کے متعلقہ ادارے ہی نوکری کی پیشکش کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے کامیاب طلبہ حیدرآباد کے مائی چوائس، صفا سوسائٹی، پرتھم، میجک بس اور دیگر اداروں میں برسرکار ہیں جبکہ کئی طلبہ کا دیگر ریاستوں میں پیرامل فاؤنڈیشن، این اے ایس وی آئی، سیو دی چلڈرن (Save the Children)، کیئر، پی آر وائی اے ایس، ہیلپ ایج انڈیا، اے آئی آئی ایم ایس وغیرہ اداروں میں اہم عہدوں پر تقرر ہوا ہے۔ کئی طلبہ جنہیں اس کورس کے باعث روزگار حاصل ہوا ہے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کس طرح شعبہ میں حاصل کی گئی تعلیم ان کی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھانے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔ ان کورسز میں آن لائن داخلے دیے جارہے ہیں۔ پی ایچ ڈی کے لیے آخری تاریخ 15/ مئی ہے جبکہ ایم ایس ڈبلیو میں 9/ جولائی تک داخلہ دیا جائے گا۔ خواہش مند طلبہ شعبہ، کورس کا نصاب اور دیگر معلومات کے لیے یونیورسٹی ویب سائٹwww.manuu.ac.inلاگ آن کرسکتے ہیں۔