گلبرگہ،2؍جنوری(ایس او نیوز)مسٹر آلوک کمار نے 2001 میں بحیثیت سپرینٹینڈینٹ آف پولیس ضلع گلبرگہ بہترین خدمات انجام دیں ۔ بعد ازاں پچھلے سال وہ نارتھ ایسٹرن رینج کے انسپیکٹر جنرل آف پولیس بن کر دوبارہ گلبرگہ تشریف لائے ۔ انھوں نے پہلے بھی یہاں اپنی غیر معمولی خدمات کی ایک چھاپ چھوڑی تھی اور اب جب کہ وہ گزشتہ سال یہاں آئے اس سال بھی انھوں نے علاقہ نارتھ ایسٹرن رینج میں عوام کے لئے محکمہ پولیس کی جانب سے بہترین خدمات کا مظاہرہ کیا ۔ لوگ ان کی کار کردگی اور علاقہ میں نظم و نسق اور امن کی برقراری کے معاملہ میں پہلے بھی نہایت خوش تھے اور اس سال بھی انکی کار کردگی سے بے حد مطمئین تھے۔ لیکن اب مسٹر آلوک کمار کا تبادلہ ہوگیا ہے جس کے سبب یہاں کے لوگوں میں کافی مایوسی ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جب گلبرگہ میں پولیس کمشنرئیٹ قائم ہوجائیگیتو وہ اس وقت ہمارے کمشنر کی حیثیت یہاں دوبارہ آئیں گے۔ ان خیالات کا اظہار کنڑا روزنامہ وجئیوانی کے چیف آفٖ دی نیوزبیورو مسٹر وادی راج ویاس مدرا نے یکم جنوری کوؤ شہر کے کنڑا شام نامہ کرناٹک سندھیا کال کے نئے دفتر کی افتتاحی تقریب میں ببحیثیتمہمان اعزازی تقریرکرتے ہوئے کیا ۔مسٹر وادی راج نے مزید کہا کہ آئی جی پی آلوک کمار جرائم کو کسی بھی طرح سے روکنے میں کامیاب رہتے ہیں یہ بات شمال مشرقی اضلاع کرناٹک کو بخوبی معلوم ہے ۔ لیکن ان کے اچانک تبادلہ سے لوگوں میں مایوسی پھیل گئی ہے ۔ مہمان خصوصی انسپیکٹر جنرل آف پولیس مسٹر آلوک کمار نے سندھیا کال کے نئے دفتر کاافتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام محکمہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تو اسیصورت میں جرائم کی روک تھام ممکن ہوسکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک مکان میں اگر چوری ہوتی ہے تو اس صورت میں ایف آئی آر درج کرنے پر ہی معلوم ہوتا ہے کہ چوری ہوئی ہے اور اس کی تحقیقات ہوتی ہیں ۔اگر ہم ایف آئی آر درج نہیں کرواتے تو اس صورت میں سارقین کی مزید ہمت افزائی ہوتی ہے۔ چور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے خلاف شکایت درج نہیں ہوئی ہے لہٰذا ایک اور مکان میں چوری کی جاسکتی ہے۔ اس معاملہ میں انسپیکٹر جنرل نے عوام سے تعاون کی اپیل کی ۔ انھوں نے بتایا کہ چند مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں پر ڈکیتی اور لوٹ مار کے واقعات ہوتے ہیں ایسے مقامات پر زیادہ رقم ساتھ نہیں لے جانی چاہئے ۔ پولیس کے عملہ کو بھی ایسے مقامات پر نظر رکھنی چاہئے ۔ اس کے علاوہ وہاں کو مقامہ لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ واقعات کی اطلاع پولیس کو دیں ۔ اسی صورت میں پولیس کے لئے چوروں اور ڈاکوؤں کو گرفتار کرنا ممکن ہوتا ہے۔ انسپیکٹر جنرل آلوک کمار نے کہا کہ ہمیں مقامی اخبارات سے کافی معلومات اور جانکاری حاصل ہوتی ے۔ اس علاقہ میں کنڑا روزنامہ کرناٹک سندھیا کال بہتریں خدمات انجام دے رہا ہے ۔ آنے والے دنوں میں شہر میں کس قسم کے احتجاج ، واقعات یا پروگرام ہونے والے ہیں ان کے بارے میں ہمیں اس اخبارکرناٹک سندھیا کال سے بڑی معلومات حاصل ہوتی ہیں ۔ آج میں نے اس اخبار کے نئے دفتر کا افتتاح کیا ہے یہ بات میرے لئے باعث فخر ہے۔ میری خواہش اور نیک تمنا ہے کہ یہ اخبار اور بھی ترقی کرتے ہوئے ریاستی سطح کا اخبار بن جائے ۔ انھوں نے کہا کہ ویژول میڈیا اور سوشئیل میڈیا کی ترقی کے سبب آج کل اخبارات کو چیالینج کا سامنا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل بر حق ہے کہ اخبارات کا میڈیا آج بھی با اثر میڈیاہے۔ ایسے حالات میں اخبارات کے ذمہ داران کوبھی چاہئے کہ وہ اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے لئے نئی نئی اور زیادہ سے زیادہ کار آمد معلومات اخبارات کے ذریعہ قارئین کے سامنے پیش کریں ۔ روزنامہ کرناٹک سندھیا کال کے چیف ایڈیٹر مسٹر ڈی شیو لنگ اپا نے اس جلسہ کی صدارت کی ۔ مسٹر روی نرونہ نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ اس تقریب میں کرناٹک سندھیا کال کے اسٹاف ممبرس کے علاوہ سینئیر جرنلسٹ ایم اے حکیم شاکر بھی شریک تھے ۔