نئی دہلی،2؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)لوک سبھا میں آج کانگریس نے آلو کی پیداوار کا کسانوں کو مناسب قیمت نہ ملنے کا الزام لگایا تو دوسری طرف، حکومت نے کہا کہ کسانوں سے حقیقی قیمت کے مطابق خریداری کویقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔سوال کے دوران کانگریس کے رکن سنیل جاکھڑ نے دو روپے فی کلوگرام سے کم قیمت پر کسانوں سے آلو کی خریداری ہونے کا دعوی کیا اور حکومت سے سوال کیا کہ کسانوں کو اس فصل کی حقیقی قیمت دلانے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟ جواب میں وزیر زراعت رادھاموہن سنگھ نے کہا کہ جس کی مصنوعات امدادی قیمت کے زمرے سے باہر ہیں ان کے لئے ’مارکیٹ مداخلت کی منصوبہ بندی‘چل رہی ہے۔اس کے تحت کسانوں کو پیداوار کی مناسب قیمت کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔پیداوار کے مناسب قیمت دینے میں جس میں اضافی رقم خرچ ہوتی اس کی تلافی مرکزی اور ریاستی دونوں کرتے ہیں۔سنگھ نے کہا کہ اس منصوبہ کے تحت ریاست پیشکش بھیجتے ہیں اور اس حساب سے مرکز کی طرف سے پیسہ جاری کیا جاتا ہے۔موجودہ مالی سال میں حکومت اس کے تحت ریاستوں کو 700کروڑ روپے کی رقم جاری کی جا چکی ہے۔وزیر کے جواب سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جاکھڑ اور کانگریس کے دیگر ارکان نے ایوان میں ہنگامہ شروع کردیا۔اس دوران حکمراں فریق کے بھی کچھ ارکان نے کانگریس کے ارکان کومنع کیا۔وزیر زراعت نے کہا کہ کسانوں کو حقیقی قیمت دلانے کے لئے حکومت نے اقدامات کئے ہیں اور اس تناظر میں ریاستوں سے مسلسل رابطہ بھی رہا ہے۔