نئی دہلی، 12/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آسٹریلیا کے سابق تیزگیندبازمشل جانسن کا خیال ہے کہ ٹیم انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی مایوسی کے شکار ہو گئے ہیں۔35سالہ بائیں ہاتھ کے اس تیزگیندباز نے بنگلور ٹیسٹ کے بعد یہ تبصرہ کیاہے۔ٹیم انڈیا نے یہ ٹیسٹ جیت کر چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 1-1کی برابری کر لی ہے۔قابل ذکرہے کہ بنگلور ٹیسٹ کے دوران کچھ تنازعہ کے لمحات بھی آئے تھے، اس میں میچ کے آخری دن ڈی آر ایس کے معاملے پر وراٹ کوہلی اور مہمان ٹیم کے کپتان اسٹیو ا سمتھ کے درمیان ہوا تنازعہ بھی شامل ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ رانچی میں 16/مارچ سے شروع ہوگا۔بائیں ہاتھ کے سابق تیزگیندباز جانسن نے فاکس اسپورٹس ڈاٹ کام،ڈاٹ اے یو ڈاٹ کے لیے لکھے اپنے بلاگ میں کہا کہ بنگلور میں کوہلی پرانی چالوں کو آزما رہے تھے۔ٹیم انڈیا کے کپتان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کوہلی انتہائی پرجوش ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ رن نہیں بنا پانے کی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں، وہ اچھا کرنے کے لیے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتے ہیں،آدھے میچ کے دوران یہ تبدیلی آئی اور اتفاق سے یہ ٹیم انڈیا کے لیے بہتر ثابت ہوئی۔جانسن کے مطابق، جب بھی کوئی وکٹ گرتا تھا، تو کیمرہ فوری طور پر رد عمل کو جاننے کے لیے سیدھے وراٹ کوہلی کی طرف مرکوز ہو جاتا تھا، وہ جانتے ہیں کہ وراٹ سے انہیں اسی طرح کا رد عمل مل سکتا ہے۔واضح رہے کہ سیریز کی چار اننگوں میں اب تک وراٹ کوہلی کا بلا خاموش ہی رہا ہے اور وہ 0، 13، 12اور 15رن ہی بنا پائے ہیں۔جانسن نے لکھا کہ میرے ذہن میں دسمبر 2014سے جنوری2015تک ہندوستانی ٹیم کے آسٹریلیا کے دورے کی یاد تازہ ہو گئی ہے،جس میں مہمان ٹیم نے چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا تھا، حالانکہ ٹیم انڈیا کو 0-2کے فرق سے سیریز گنوانی پڑی تھی۔اس سیریز میں کوہلی نے بہترین فارم دکھاتے ہوئے 86.5کی اوسط سے 692رنز بنائے تھے جس میں چار سنچریاں اور ایک نصف سنچری بھی شامل تھی۔2015میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے والے جانسن نے لکھا کہ دوسرے ٹیسٹ میں ہندوستان اورآسٹریلیا کے درمیان ہوئے زوردار مقابلہ کا میں نے پورا لطف لیا۔وراٹ اس میچ میں کافی پر جوش نظر آئے، وہ سامعین سے بھیڑ کی حمایت کے لیے کہہ رہے تھے،اس سے مجھے ایک حد تک اپنے کھیل کے دنوں کی یاد آ گئی۔