نئی دہلی،30/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ریپ کیس میں مجرم قراردئے گئے گرمیت رام رہیم کو 20سال کی سزاسنائی گئی ہے،اس سے آسارام کے معاملے میں متاثرین کو جلد ہی انصاف ملنے کی کی امید بڑھی ہے۔نابالغ سے ریپ کیس میں ملزم آسارام کے ساتھ حال ہی میں سپریم کورٹ نے سست رفتار سے ہو رہی سماعت پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔غور کرنے والا بات یہ ہے کہ آسارام باپو جیل میں بند ہے پھر بھی اس کے معاملات سے متعلق کچھ گواہوں کا قتل ہو چکا ہے اور بہت سے لوگوں پر حملے ہو چکے ہیں۔
خیرمتاثرین میں اب انصاف کی امیدبڑھی ہے۔ والد نے این ڈی ٹی وی سے خاص بات چیت میں کہا کہ ہم 4سال سے آسارام کی سزا کا انتظار کر رہے ہیں،ہمیں امید ہے کہ ہمیں بھی انصاف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم تو 20سال کی سزا کو بھی کم سمجھتے ہیں،ان لوگوں نے بچیوں کی زندگی برباد کر دی،ان کوپھانسی کی سزا ہو نی چاہئے تاکہ دوسروں کو بھی اس سے سبق مل سکے۔انہوں نے الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر کیس کوموخر کر رہے ہیں، کیونکہ اگر سزا ہو تو جیل میں کھانے پینے سے متعلقہ سہولتیں بھی بند ہو جائیں گی۔آسارام کا وکیل کیس آگے بڑھنے نہیں دیتا،وہ ہمیشہ اپیل کرتا ہے اور تاریخ پر تاریخ لیتارہتاہے۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ پر اعتماد ہے،اس لئے لڑکیا شکایت لے کر آتیں ہیں،ورنہ اس طرح کے کیسوں میں 95فیصد لڑکیاں خاموش بیٹھی ہیں، کیونکہ انصاف ملنے میں تاخیرہوتی ہے،کیس لڑنے میں پیسے لگتا ہے،ہم صرف کیس کے لئے جودھپور جانا پڑتا تھا تو ہوٹل میں رکنا پڑتا تھا،ایک طرح کا ٹارچر ہی تھا۔ادھر رشتہ داروں کا فون آتا رہتا تھا کہ سمجھوتہ کر لو ورنہ یہ مروا دیں گے۔براہ راست اور بلاواسطہ آسارام کی طرف سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے،اب ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیں بھی جلد انصاف ملے گا۔