نئی دہلی، 3 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )مرکزی انفارمیشن کمیشن نے کہا ہے کہ سرکاری حکام کے شریک حیات اور ماتحتوں کی جائیداد کی معلومات حق اطلاعات کے تحت مانگنا غیر متعلق اور غیر قانونی ہے۔حالانکہ کمیشن نے حکام سے منسلک ایسی معلومات کو اجاگر کرنے کی اجازت دی ہے۔راکیش کمار گپتا نے تقریبا 100افسران اور ان کے شریک حیات کی جائیداد سے متعلق معلومات مانگنے کے لیے انکم ٹیکس محکمہ سے رابطہ کیا تھا۔انہوں نے ان لوگوں کی طرف سے گزشتہ 10سالوں میں جمع کی گئی غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کی تھی ۔اس پر محکمہ نے کہا کہ وہ یہ ریکارڈ نہیں رکھتا ہے۔جب یہ معاملہ انفارمیشن کمشنروں بسنت سیٹھ اور سر ی دھر اچائے رل والی کمیشن کی بنچ کے سامنے پہنچا تو گپتا نے جمہوریت کے اصولوں ، لوک پال قانون کی دفعات اور کسی شخص کے خلاف لگے الزامات کا حوالہ دیا۔بنچ نے کہاکہ وہ دوسری اپیل کے لیے کوئی ٹھوس وجہ نہیں پیش کر سکے۔بنچ نے کہاکہ کمیشن نے پایا کہ اپیل کنندہ 100افسران کی املاک اور دین داری سے منسلک معلومات چاہتے تھے۔اس سے مقصد اور منشا کو لے کر شک پیدا ہوتا ہے۔حالانکہ جس واحد قانونی معاملے پر بحث کی جانی ہے، وہ عوامی خدمتگار کی طرف سے جائیداد اور دین داری کی معلومات کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری سے منسلک ہے۔