نئی دہلی،8؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بی جے پی ایم پی شتروگھن سنہا نے پیر کو کہا کہ آدھار رپورٹس کے غلط استعمال کو اجاگر کرنے والی خبر دینے والی صحافی کو مبینہ سچائی سامنے لانے کے لیے پریشان کیا جا رہا ہے۔انہوں نے پوچھا کہ کیا ملک کے لوگ کسی بنانا جمہوریت میں رہ رہے ہیں؟۔بنانا جمہوریت کا لفظ ایسے ملک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو سیاسی طور پر غیر مستحکم ہے۔سنہا نے ٹویٹر پر لکھا کہ یہ انصاف کس طرح ہے؟ صرف انتقام کی سیاست کی جا رہی ہے۔یہاں تک کہ وہ لوگ جو سماج اور ملک کے ساتھ ایماندار ہیں وہ بھی پریشان ہو رہے ہیں۔سنہا مرکزی حکومت اور بی جے پی کی زیر قیادت حکومت پر مختلف معاملات میں تنقید کر تے رہے ہیں۔انہوں نے واقعہ کے سلسلے میں صحافی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کو لے کر سخت رد عمل دینے کے لئے ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا کو مبارکباد بھی دی اور امید ظاہر کی کہ حکومت کے سچے افسر اور خاص طور پر سپریم کورٹ نظررکھ کر فوری اصلاحی اقدامات کرے گا۔پٹنہ صاحب سے ایم پی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ آدھار میں بے ضابطگی اور اس کے غلط استعمال کے بارے میں سچائی پیش کرنے کیلئے صحافی کو پریشان کیا جا رہا ہے،کیا ہم کسی بنانا جمہوریت میں رہ رہے ہیں؟۔غور طلب ہے کہ آدھار جاری کرنے والے ہندوستانی مخصوص شناخت اتھارٹی (یوآئی ڈی اے آئی) کے ایک افسر کی شکایت پر دہلی پولیس کی طرف سے ریکارڈ ایف آئی میں ٹربیون اخبار کی اس صحافی کا نام بھی شامل ہے جس نے اس معاملے کا انکشاف اپنی خبر میں کیا۔خبروں میں ایک ارب سے زائد آدھار کارڈ کے اعداد و شمار لیک کئے جانے کی خبردی گئی تھی۔قابل ذکر ہے کہ آدھارجاری کرنے والے ہندوستانی مخصوص شناخت اتھارٹی کے ایک شخص کی شکایت پر درج ایف آئی آر میں ٹربیون اخبار کی اس صحافی کا نام بھی شامل ہے جس نے اس معاملے کا انکشاف اپنی خبر میں کیا۔ہندوستان کے ایڈیٹرز گلل نے بھی ایف آئی آرواپس لیے جانے کے لیے حکومت کی مداخلت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ منصفانہ اور آزادانہ طورپر کیس کی تحقیقات کی جانی چاہئیں۔