ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آئین پر نکتہ چینی کرنے والے عوامی نمائندے بننے کے لائق نہیں: سدارامیا

آئین پر نکتہ چینی کرنے والے عوامی نمائندے بننے کے لائق نہیں: سدارامیا

Mon, 01 Jan 2018 12:42:07    S.O. News Service

ملک کیلئے خطرہ بن رہی فرقہ پرست سیاست کے خلاف جدوجہد ضروری ہے: پرکاش رائے

بنگلورو،31/دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا نے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی جانب سے تیار کردہ آئین سب سے عظیم ہے اور اس پر نکتہ چینی کرنیوالے عوامی منتخب نمائندے بننے کے لائق نہیں ہیں۔ پریس کلب آف بنگلور کی گولڈن جوبلی کے موقع پرپریس کلب کی جانب سے عطا کردہ سال کی شخصیت ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے سدارامیا نے اس خیال کااظہار کیا اور کہا کہ دستور ہندکے نام پر حلف لینے والے عوامی منتخب نمائندوں کانجی ایجنڈہ نہیں رہنا چاہئے۔ آئین کااحترام ہرایک کو کرناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا موازنہ سابق وزیراعلیٰ، پسماندہ طبقات کے روح رواں آنجہانی ڈی ۔ دیوراج ارس سے کرنامناسب نہیں ہے۔اس سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ چند افراد ان پر محبت کی وجہ سے انہیں آنجہانی دیوراج ارس سے جوڑتے ہیں جبکہ چند افراد اس پرتنقید کرتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کاتعلق سیاسی خاندان سے نہیں بلکہ سیاست میں ان کا داخلہ اچانک ہے ۔ چندافراد انہیں ذات پات کا حامی گھمنڈی کہتے ہیں جوبالکل بے بنیاد ہے ،ان کا یقین صرف انسانیت کی قدر دانی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی قیادت میں جس کمیٹی نے ملک کے آئین کو ترتیب دیا ہے وہ ذات پات اور امتیازات سے بالاتر رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ملک کے آئین کو تبدیل کرنے کی باتیں کررہے ہیں وہ عوامی نمائندے بننے کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک ایسی تاریخ کا گواہ ہے جہاں صدیوں تک کمزور اوربچھڑے طبقات پر ظلم وستم ہوتا رہا ۔ ان طبقات کو سماج میں انصاف اور مساوات کے لئے آئین ترتیب دیا گیا ۔ اس کی حفاظت کرنا اور عوام کو ان کے حقوق دلانا ملک کے ہر شہری بالخصوص منتخب شدہ عوامی نمائندوں اور ذرائع ابلاغ کی اہم ذمہ داری ہے ۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ان کا تعلق دیہی علاقے سے ہے اس لئے ان کالب ولہجہ تھوڑا سخت ہے اور وہ تنقید کا استقبال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک پنچایت انتخابات سے اپنی سیاسی زندگی شروع کی اور ایک وکیل بننے کاارادہ تھا ۔ اب وزیر اعلیٰ کے عہدہ تک کافی جدوجہد کے بعد اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی سیاسی زندگی میں اپنے اصولوں سے کبھی سودا نہیں کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اونچی ذات کے افراد اگر اونچی آواز میں بولتے ہیں تو اسے پروٹوکال کہا جاتاہے ۔ لیکن اس کے برعکس جب نچلی طبقے کے افراد اونچی آواز میں بات کریں تو انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اس موقع پر معروف ہمہ لسانی ادا کارپرکاش رائے کو بھی سال کی شخصیت ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پرکاش رائے نے کہا کہ ملک کے لئے خطرہ بن رہی فرقہ پرست سیاست کے خلاف جدوجہد ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کے جذبات کو مجروح کرنے والی طاقتوں کے خلاف آواز اٹھانا ہے ۔ خاموشی اختیار کرنا بزدلوں کی نشانی ہے ۔پرکاش رائے نے بزرگ صحافی لنکیش ،ادیب کی دم ناگراج ، ڈی آر ناگراج ، پورنا چندرا ، تیجسوی ودیگر کے ساتھ ان کے روابط کو یاد کیا ۔ انہوں نے پریس کلب کی جانب سے اس اعزاز کے لئے منتخب کرنے پر شکریہ ادا کیا اور صحافی گوری لنکیش کے قتل کی دوبارہ مذمت کی ۔ پرکاش رائے نے کہا کہ انہیں سیاست میں آنے کا کوئی شوق نہیں ہے اگر موقع ملے تواس میدان میں بھی وہ قسمت آزمانے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بار بار انہیں کسی حلقہ سے میدان میں اترنے کاچیلنج کیا جاتاہے۔ وہ میدان میں اتر کرایسے افراد کو جواب دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند افراد ریاست کی پرامن فضا میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔اسی مقصد سے شر انگیز بیانات جاری کرتے ہوئے دلوں میں نفرتوں کا بیج بونے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایسے افراد کو متحد طور پر سخت جواب دینا چاہئے ۔ ریاستی وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی آنے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں اقتدار حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے جو کبھی پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سدارامیا کی قیادت والی کانگریس حکومت نے تمام 165وعدوں کو پورا کیا ہے جبکہ بی جے پی اپنے دور حکومت کے دوران جو وعدے کئے تھے اس کو پورا کرنے میں ناکام رہی تھی۔بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کے دورۂ بنگلور پر ریڈی نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ قبل امیت شاہ نے اپنے دورہ کے دوران ریاست میں فرقہ پرستی کے ذریعہ امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی لیکن حکومت نے ان کے اس منصوبے کو ناکام کردیا ہے ۔ریاستی بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے ریاست میں ہندو کارکنوں کے قتل کی وارداتوں میں اضافہ کا الزام لگاتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ کو پیش کردہ یادداشت پر ریاستی وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی رہنما لاش سامنے رکھ کر سیاست کرتے ہیں۔آدی چن چن گری مٹھ کے شری نر ملا نندا سوامی جی نے تقریب کی نگرانی کی ۔ اس موقع پر سینئر صحافی وی رام سوامی کنوا ، ایشور دائی توٹا ،عائشہ خانم ، بی وی ملیکا رجنا ، ادکیرے جئے رام ودیگر کو بھی پریس کلب سال کی شخصیت اعزاز سے نوازا گیا ۔ اس موقع پر ریاستی وزیر برائے ٹرانسپورٹ ایچ ایم ریونا ، وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری گووندراج ، مےئر سمپ راج ، پریس کلب آف بنگلور کے صدر سدا شیو شینائی ،نائب صدر دوڈا بومیا ،جنرل سکریٹری کرن ودیگر موجود رہے۔


Share: