پٹنہ، 30 جون (ایس او نیوز/ایجنسی)پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں اتوار کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے زیر اہتمام منعقدہ ’وقف بچاؤ، دستور بچاؤ‘ کانفرنس ایک زبردست عوامی احتجاج میں تبدیل ہو گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کی شرکت سے میدان چھوٹا پڑ گیا اور احتجاج کا منظر ایک عظیم عوامی اجتماع میں بدل گیا۔ کانفرنس کا مقصد مرکز کی مودی حکومت کی جانب سے مجوزہ وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا تھا، جسے مقررین نے نہ صرف مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا بلکہ اسے آئینی و جمہوری اقدار کے بھی خلاف بتایا۔
کانفرنس میں سیاسی و دینی قیادت کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی، جن میں بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو، کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید، راجیہ سبھا ممبر عمران پرتاپ گڑھی، کمیونسٹ پارٹی کے رہنما دیپانکر بھٹاچاریہ، پپو یادو، اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے بہار لیڈر اختر الایمان کے نام نمایاں ہیں۔ علما و مشائخ میں امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، مولانا سید ارشد مدنی، مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی، مولانا وصی احمد قاسمی، مولانا اسعد قاسمی، مولانا سہیل اختر قاسمی اور دیگر علماء نے بھی شرکت کی اور پرزور خطاب کیا۔
اپنے جوشیلے خطاب میں تیجسوی یادو نے وقف قانون میں مجوزہ ترمیم کو مسلمانوں، دلتوں، پسماندہ اور دیگر کمزور طبقات کے حقوق پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا: ’’یہ ملک کسی کے باپ کا نہیں ہے، یہ ہندوستان ہم سب کا ہے۔‘‘ انہوں نے ووٹر لسٹ میں ترمیم کے بہانے اقلیتوں اور محروم طبقات کے ووٹ دینے کے حق کو سلب کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی۔ تیجسوی یادو نے اعلان کیا کہ اگر ریاست میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بنی تو اس ترمیمی قانون کو پہلے ہی دن کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا۔
مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون سراسر ظلم ہے اور یہ مذہبی خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’جب تک یہ قانون واپس نہیں لیا جاتا، ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔‘‘ مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مخصوص نظریہ رکھنے والے لوگ ملک کے آئین کو دل سے کبھی قبول نہیں کر پائے اور اب اسے بدلنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین ملک کی تکثیری شناخت کی ضمانت ہے، جسے کسی بھی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مقررین نے اس موقع پر تحریک آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ہندوستان کی آزادی کسی ایک طبقے کی مرہون منت نہیں بلکہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سبھی نے یکساں قربانیاں دی ہیں۔ اس لیے ملک پر کسی ایک جماعت یا طبقے کی اجارہ داری قائم کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔
احتجاج کے دوران گاندھی میدان صبح 6 بجے سے دوپہر 2 بجے تک شرکاء سے بھرا رہا۔ سخت گرمی اور دھوپ کے باوجود عوام پرجوش انداز میں اپنے رہنماؤں کی تقاریر سنتے رہے۔ انتظامیہ کی طرف سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
یہ احتجاج اس بات کا ثبوت بن گیا کہ ملک کی اقلیتی برادری اپنے آئینی و مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار ہے اور کسی بھی غیر آئینی قدم کو خاموشی سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ جدوجہد صرف وقف کے تحفظ کی نہیں بلکہ ملک کی جمہوریت اور آئینی بالادستی کے تحفظ کی لڑائی ہے۔