اُڈپی 20 / جولائی (ایس او نیوز) شہر کے اندر تاحال زیر زمین ڈرینیج سسٹم مکمل نہ ہونے کی وجہ سے رہائشی عمارتوں اور ہوٹلوں کی طرف سے کھلی برساتی نالیوں میں گندے پانی کی نکاسی ہو رہی ہے جس سے عوام کی صحت کے لئے نقصانات اور وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔
اس مسئلے کا جائزہ لینے کے لئے ایم ایل اے یشپال سورنا کی قیادت میں عوام کے ساتھ ایک جائزاتی نشست منعقد کی گئی ۔جس کے دوران یشپال سورنا نے شہر کے اندر ابھی تک یو جی ڈی کا سسٹم جاری نہ ہونے کی وجہ سے جو گندے پانی کا مسئلہ کھڑا ہوا ہے اس کی نکاسی کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں اس پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ یو جی ڈی سسٹم کے لئے تجویز حکومت کو بھیجی گئی ہے ۔ پہلے اس پر 400 کروڑ روپے لاگت کا اندازہ تھا جو اب بڑھ کر ہزاروں کروڑ روپیوں میں بدل گیا ہے ۔ اب اس منصوبہ کو عمل میں لانا اتنا آسان بھی نہیں ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ اب اُڈپی سٹی میونسپل کاونسل کا درجہ بڑھا کر سٹی کارپوریشن بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔ اس وجہ سے گندے پانی کے مناسب زیر زمین نکاسی نظام کی ضرورت ہے ۔ جب تک یہ سسٹم تیار نہیں ہوتا تب تک موجودہ مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے اس پر رہائشی عمارتوں، تجارتی کامپلیکس اور ہوٹل والوں کو غور کرنا چاہیے اور اس ضمن میں مناسب مشورے دینے چاہئیں ۔ شہر کی ترقی اور صفائی و ستھرائی کے لئے سب کو مل جل کر سوچنا چاہیے ۔
میٹنگ میں شہر کے 150 سے زائد بلڈرس، ٹھیکیدار، پلاٹس کے مالکان وغیرہ موجود تھے جنہوں سے درپیش مسائل اور سٹی میونسپل کاونسل سے ان کی توقعات کے تعلق سے اپنی بات رکھی اور کہا کہ ان مسائل کے حل کے سلسلے میں سب لوگ میونسپل کاونسل کے ساتھ تعاون کے لئے پوری طرح تیار ہیں ۔
مختلف علاقوں میں درپیش مسائل اور برساتی نالیوں میں گندے پانی کی نکاسی کی وجہ سے ملیریا، ڈینگی جیسی بیماریاں پھیلنے کے تعلق سے مختلف ذمہ داروں نے بات رکھی لیکن اس کے حل کے سلسلے میں کوئی حتمی رائے نہیں بن سکی ۔ آئندہ مزید عوامی نمائندوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ایک اور اجلاس منعقد کرنے کی بات پر میٹنگ اختتام پزیر ہوئی ۔