ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بہار ووٹر لسٹ پر تیجسوی یادو کا الیکشن کمیشن پر سنگین الزام؛ ڈیٹا میں چھیڑ چھاڑ کا دعویٰ

بہار ووٹر لسٹ پر تیجسوی یادو کا الیکشن کمیشن پر سنگین الزام؛ ڈیٹا میں چھیڑ چھاڑ کا دعویٰ

Mon, 14 Jul 2025 19:07:43    S O News

نئی دہلی 14/جولائی (ایس او نیوز) : راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما اور بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے  الیکشن کمیشن (ای سی) پر ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (Special Intensive Revision - SIR) کے عمل میں عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اعداد و شمار میں چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ ریاست بہار میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی تیزی سے جاری ہے اور 25 جولائی کی مقررہ تاریخ سے پہلے مکمل کر لی جائے گی۔

یادو نے کہا، "الیکشن کمیشن نے اپنے ہفتہ کے روز جاری کردہ پریس نوٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کے 7.90 کروڑ ووٹروں میں سے 80 فیصد سے زائد کو SIR کے تحت شامل کیا جا چکا ہے۔ یہ ایک حیران کن دعویٰ ہے کیونکہ تقریباً چار کروڑ بہاری ریاست سے باہر رہائش پذیر ہیں۔"

انہوں نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن ان چار کروڑ بیرون ریاست رہنے والے بہاریوں کو کس طرح اس عمل میں شامل کر رہا ہے؟ یادو نے کہا، "یہ سب کو معلوم ہے کہ انتخابات کے دوران بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے بہار واپس آتے ہیں۔ کووڈ-19 وبا کے دوران بھی تقریباً 40 لاکھ افراد کے لیے خصوصی ٹرینیں چلائی گئی تھیں۔ اس بار الیکشن کمیشن نے کیا انتظامات کیے، یہ واضح ہونا چاہیے۔"

انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن صرف تعداد کا کھیل کھیل رہا ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ یہ عمل کامیابی سے انجام دے رہا ہے۔ "ہمیں ایسی شکایات ملی ہیں کہ بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) پر ہدف پورا کرنے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ ووٹروں سے فارم باقاعدہ طریقے سے پُر کرائے بغیر ہی جمع کر رہے ہیں۔"

یادو نے مزید کہا کہ ان کے پاس کچھ ویڈیوز موجود ہیں جن میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ووٹر اندراج کے فارم سڑکوں پر بکھرے پڑے ہیں، جو اس پورے عمل کی بدانتظامی کی عکاسی کرتے ہیں۔

حالانکہ ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر کے X (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل سے ان ویڈیوز کو "فیکٹ چیک" کے ذریعے مسترد کیا جا رہا ہے۔

تیجسوی یادو نے الیکشن کمیشن کی خاموشی پر بھی اعتراض کیا کہ اُس نے اب تک سپریم کورٹ کی اُس تجویز پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا جس میں کہا گیا تھا کہ آدھار کارڈ اور راشن کارڈ کو قابل قبول دستاویزات کی فہرست میں شامل کیا جائے، خاص طور پر ان ووٹروں کے لیے جن کے نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ SIR کے تحت سیاسی جماعتوں کے بوتھ ایجنٹس کے کردار پر بھی کوئی واضح گائیڈ لائن موجود نہیں ہے، اور BLOs خود الجھن کا شکار ہیں۔ "الیکشن کمیشن نے ایک اشتہار جاری کر کے کہا کہ جن کے پاس ابھی دستاویزات نہ ہوں، وہ صرف فارم جمع کرا سکتے ہیں، باقی کارروائی دعووں/اعتراضات کے مرحلے میں ہوگی، لیکن اس کے لیے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔"

یادو، جو ریاستی اسمبلی انتخابات کے لیے انڈیا بلاک کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، نے کہا، "ہم اب بھی اس بات پر قائم ہیں کہ SIR کا یہ پورا عمل دانستہ طور پر موجودہ ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، تاکہ حکمران این ڈی اے کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔"

انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیراعلیٰ نتیش کمار کو اس مبینہ غیر جمہوری اقدام کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہوں نے مزید کہا، "2020 کے اسمبلی انتخابات میں کئی سیٹوں پر مہاگٹھ بندھن کے امیدوار محض 3,000 یا اس سے بھی کم ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ اگر ووٹر لسٹ میں تھوڑا سا بھی چھیڑ چھاڑ ہو جائے تو نتیجے کا پلڑا آسانی سے کسی بھی طرف جھک سکتا ہے۔ اگر واقعی الیکشن کمیشن کو لگتا ہے کہ ووٹر لسٹ میں خامیاں تھیں، تو اسے گزشتہ سال کے لوک سبھا انتخابات کو کالعدم قرار دینا چاہیے۔"

بی جے پی کے اُس دعوے پر طنز کرتے ہوئے کہ یہ عمل "غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا" ووٹروں کو ہٹانے کے لیے ہے، تیجسوی نے کہا، "2014 اور 2019 کے انتخابات میں این ڈی اے کو بہار کی 40 میں سے 30 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ کیا بی جے پی سمجھتی ہے کہ مبینہ گھس پیٹھیے مودی جی کے حق میں ووٹ دے رہے تھے؟"


Share: