بیندور 12/جون (ایس او نیوز) : تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ سی۔ جوزف وجے نے جمعہ کے روز اُڈپی ضلع کے بیندور تعلقہ کے کولّور میں واقع مشہور شری مُوکامبیکا مندر کا دورہ کرکے درشن کیے۔ ان کی آمد کے پیشِ نظر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ بڑی تعداد میں مداح اور حامی ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
وجے دن میں منگلورو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے، جہاں کرناٹک کے وزیرِ صحت یو ٹی قادر نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں وہ سڑک کے راستے کولّور روانہ ہوئے اور راستے میں جمع اپنے حامیوں کا ہاتھ ہلا کر خیرمقدم قبول کیا۔
تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مُوکامبیکا مندر کا یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔ کولّور پہنچنے پر مندر انتظامیہ اور حکام نے ان کا استقبال کیا، جس کے بعد انہوں نے دیوی مُوکامبیکا کے درشن کیے۔
دورے کے پیشِ نظر اُڈپی ضلع پولیس کی جانب سے غیرمعمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ وجے کے سفر کے راستے اور مندر کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، جبکہ زیڈ پلس سکیورٹی پروٹوکول کے تحت اعلیٰ پولیس افسران بھی موقع پر موجود تھے۔

وجے کی آمد سے قبل ہی مندر کے باہر بڑی تعداد میں مداح جمع ہوگئے تھے۔ شدید بارش کے باوجود متعدد افراد انتظار کرتے رہے، جبکہ بعض مداح اپنے پسندیدہ رہنما کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے درختوں اور قریبی عمارتوں پر بھی چڑھ گئے تھے۔ وجے کی آمد پر حامیوں نے ’’دَلپتی وجے‘‘ اور ’’جَن نائگن وجے‘‘ کے حق میں نعرے لگائے۔
ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کو کافی مشقت کا سامنا کرنا پڑا اور بعض مقامات پر مشتعل یا بے قابو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔
احتیاطی تدابیر کے تحت پولیس نے عقیدت مندوں کو مشورہ دیا تھا کہ اگر ممکن ہو تو دوپہر سے شام تک مندر آنے سے گریز کریں، تاہم حکام نے واضح کیا کہ زائرین کے مندر میں داخلے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔
دریں اثنا، تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ کے خلاف سیاہ جھنڈے دکھا کر احتجاج کرنے اور نعرے بازی کرنے والے کرناٹک رکشنا ویدیکے کے کارکنوں کو اُڈپی ضلع میں پولیس نے احتیاطی اقدام کے طور پر حراست میں لے لیا۔
وجے کے دورے کے دوران کسی عوامی پروگرام یا تقریب کا انعقاد نہیں کیا گیا اور وہ درشن کے بعد واپس روانہ ہوگئے۔