ہاویری 12/جون (ایس او نیوز) : کرناٹک کے ضلع ہاویری میں گھر بیٹھے روزگار اور خود روزگاری کے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کرکے سینکڑوں خواتین سے 10 کروڑ روپے سے زائد رقم جمع کرنے کے بعد ایک میاں بیوی کے مبینہ طور پر فرار ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد متاثرہ خواتین نے پولیس سے رجوع کرتے ہوئے سخت کارروائی اور اپنی رقم واپس دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
شکایات کے مطابق، ونائک انویری اور ان کی اہلیہ رمیہ نے ہاویری شہر کے اشونی نگر علاقے میں ’’ایس ایل وی مہیلا مارٹ اینڈ مارکیٹنگ‘‘ کے نام سے ایک دفتر قائم کیا تھا۔ انہوں نے خواتین کو اگربتی، موم بتی، کافور اور دیگر مصنوعات کی پیکنگ کا کام گھر بیٹھے فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے ذریعے معقول اور مستقل آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
متاثرین کا الزام ہے کہ ملزمان نے کام حاصل کرنے کے لیے 25 ہزار روپے سے لے کر 5 لاکھ روپے تک بطور ڈپازٹ جمع کروانے کی شرط رکھی تھی۔ خواتین کو راغب کرنے کے لیے سرمایہ کاری پر پرکشش منافع کی پیشکش بھی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری پر ماہانہ 26 ہزار روپے آمدنی کا وعدہ کرکے بڑی تعداد میں خواتین سے رقم وصول کی گئی۔
خواتین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد سے رقم جمع کرنے کے بعد ملزمان نے اچانک دفتر بند کر دیا اور لاپتہ ہو گئے۔ متاثرین میں سے کئی خواتین نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس اسکیم میں لگا دی تھی اور اب وہ شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
منگل کے روز متعدد متاثرہ خواتین ہاویری سٹی پولیس اسٹیشن پہنچیں اور ملزمان کے خلاف شکایات درج کرانے کا عمل شروع کیا۔ اس موقع پر وکلاء نوین مُلگنڈ اور منجوناتھ ارلی کٹی نے کہا کہ متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی ملزم ونائک انویری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور متاثرین کی رقم واپس دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
پولیس حکام نے شکایت کنندگان سے متعلقہ دستاویزات اور ثبوت جمع کرانے کی ہدایت دی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ باضابطہ شکایات موصول ہونے کے بعد ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔
پولیس نے بتایا کہ معاملے کی جانچ شروع کر دی گئی ہے اور فرار میاں بیوی کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ متاثرین کے اندازے کے مطابق مبینہ دھوکہ دہی کی مجموعی رقم 10 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ عوام کو گھر بیٹھے روزگار، خود روزگاری اور غیر معمولی منافع کے دعووں پر مبنی اسکیموں میں سرمایہ کاری سے قبل مکمل تحقیق اور احتیاط سے کام لینا چاہیے۔