ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دھرمستھلا مندر اداروں کے سیکریٹری ہرشیندرا کمار کو جھٹکا - سپریم کورٹ نے میڈیا پر پابندی لگانے سے کیا انکار

دھرمستھلا مندر اداروں کے سیکریٹری ہرشیندرا کمار کو جھٹکا - سپریم کورٹ نے میڈیا پر پابندی لگانے سے کیا انکار

Sat, 09 Aug 2025 18:43:21    S O News

نئی دہلی ،9 / اگست (ایس او نیوز) دھرمستھلا مندر کے اداروں کے سکریٹری ہرشیندرا کمار ڈی کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے دھرمستھلا اجتماعی تدفین کیس کے سلسلے میں میڈیا پر کسی بھی قسم کی پابندی لگانے سے انکار کر دیا ۔
    
واضح رہے کہ ہرشیندرا کمار نے مبینہ ہتک آمیز رپورٹوں کی اشاعت کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے حکم امتناعی کی مانگ کی تھی ۔

عدالت عالیہ نے ہرشیندرا کمار ڈی بمقابلہ کوڈلا ریمپیج اور دیگر کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کرناٹک کی ٹرائل کورٹ کو بھی ہدایت دی کہ وہ سماعت کی اگلی تاریخ سے دو ہفتوں کے اندر عبوری حکم امتناعی کی درخواست پر آزادانہ طور پر غور کرے اور فیصلہ کرے ۔
    
سپریم کورٹ میں یہ معاملہ جمعہ 8 اگست کو جسٹس راجیش بندل اور منموہن کی بینچ کے سامنے آیا ۔ جسٹس منموہن نے تبصرہ کیا کہ گیگ آرڈر (زباں بندی کا حکم) صرف نادرالمثال معاملات میں ہی جاری کیے گئے ہیں کیونکہ ان سے اظہار رائے کی آزادی پر روک لگتی ہے ۔ 
    
دھرمستھلا مندر کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل مُکل روہتگی نے دلیل دی کہ سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر روزانہ توہین آمیز رپورٹس اور میمز گردش کر رہے ہیں اس لئے اس کے خلاف کم از کم عبوری تحفظ فراہم کیا جائے ۔ تاہم  بینچ نے کہا کہ اگر ہتک آمیز رپورٹس سے نقصان ہوتا ہے تو ایسی صورت میں مندر ہمیشہ ہرجانے کا مطالبہ کر سکتا ہے، لیکن اس کے لئے میڈیا پر پابندیوں کو جواز نہیں بنایا جا سکتا۔     
    
سپریم کورٹ نے عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا اور ٹرائل کورٹ سے کہا کہ وہ درخواست پر نئے سرے سے سماعت کرے اور یہ واضح کیا کہ ہائی کورٹ کی طرف سے دیے گئے کسی بھی مشاہدے کو فیصلے پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے ۔    
    
یہ کیس ایک ایسے شخص کے الزامات سے پیدا ہوا ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کئی دہائیوں تک دھرمستھلا میں صفائی کارکن کے طور پر کام کیا ہے اور اس نے سیکڑوں لاشیں دفن کی ہیں، جن میں سے اکثر خواتین کی ہیں  جن پر حملہ کے آثار دکھائی دے رہے تھے ۔ 
    
اس سنسنی خیز معاملے نے میڈیا کی بڑی توجہ حاصل کی ہے ۔ دھرمستھلا مندر اداروں کے سیکریٹری ہرشیندرا کمار نے بینگلورو میں سٹی سول اور سیشن کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے  دعویٰ کیا تھا کہ ان کے، ان کے خاندان اور مندر کے خلاف ہتک آمیز رپورٹیں شائع کی جا رہی ہیں ۔ اس درخواست میں 8,842 قابل اعتراض لنکس کا حوالہ دیا گیا تھا ۔

18  جولائی کو بنگلورو کی عدالت نے ایک عبوری حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں کوڈلا ریمپیج یوٹیوب چینل سمیت دیگر کئی میڈیا گروپس اور چینلس کو اس کیس کی رپورٹنگ سے روک دیا گیا تھا ۔ 
    
یوٹیوب چینل نے عدالت کے اس حکم کو کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، جس نے یکم اگست کو دیگر میڈیا پر پابندیاں برقرار رکھتے ہوئے اس پر سے پابندیاں ہٹا دیں ۔

ابتدائی طور پر حکم امتناعی دینے والے جج نے بعد میں یہ بات سامنے آنے کے بعد کہ وہ دھرمستھلا منجوناتھیشورا ٹرسٹ کے زیر انتظام لاء کالج کا سابق طالب علم رہا ہے، خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا ۔ پھر ان کے جانشین جج نے میڈیا پر پابندی جاری رکھنے کے لیے مندر کی درخواست کو مسترد کر دیا، جس کے بعد ہرشیندرا کمار نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر وہاں سے بھی انہیں راحت کے بجائے اب ایک اور دھچکا لگا ہے۔


Share: