ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ٹی ایم سی کے باغی ارکان کو سپریم کورٹ کا نوٹس، ابھیشیک بنرجی کی عرضی پر سماعت

ٹی ایم سی کے باغی ارکان کو سپریم کورٹ کا نوٹس، ابھیشیک بنرجی کی عرضی پر سماعت

Tue, 25 Aug 2026 17:24:49    S O News

نئی دہلی   ، 25/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)خود کو نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں ضم کرنے والے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے۔ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کی عرضی پر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ عرضی میں لوک سبھا اسپیکر کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ ان کی طرف سے عدالت میں موجود سالیسٹر جنرل نے بتایا کہ اسپیکر نے پہلے ہی اس معاملے میں کارروائی شروع کر دی ہے، انہوں نے تمام اراکین پارلیمنٹ سے جواب مانگا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسپیکر کو عدالت کی جانب سے باضابطہ نوٹس جاری نہ کیا جائے، وہ ان کی طرف سے عدالت کی معاونت کریں گے۔ ججوں نے اسے قبول کر لیا۔

ابھیشیک بنرجی کی عرضی میں کہا گیا ہے کہ ان اراکین پارلیمنٹ کے خلاف دَل-بدل قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے اور ان کی پارلیمانی رکنیت منسوخ ہونی چاہیے۔ لیکن لوک سبھا اسپیکر ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ ابھیشیک بنرجی نے کہا ہے کہ ان اراکین پارلیمنٹ کو نہ تو آفیشیل طور پر ایک الگ گروپ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور نہ ہی ویسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اگر انہیں این سی پی آئی کے طور پر تسلیم کرنا ہے تو وہ فیصلہ جلد ہونا چاہیے، لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے ہے کہ ایک طرف تو انہیں الگ پہچان نہیں دی جا رہی ہے اور دوسری طرف جب وہ ایوان میں بولتے ہیں تو ان کا وقت ہمارے (ٹی ایم سی) کے طے شدہ وقت سے کاٹا جاتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ابھیشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے مل کر بھی پارٹی کے 20 اراکین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے ان باغی اراکین پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کی عرضی پر جلد از جلد فیصلہ لینے کی اپیل کی تھی۔ ٹی ایم سی نے ان باغی اراکین پارلیمنٹ کے خلاف جون کے مہینے میں ہی آئین کے 10ویں شیڈول (اینٹی ڈیفیکشن قانون) کے تحت عرضیاں داخل کی تھیں، لیکن 2 ماہ بعد بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔


Share: