مینگلورو، یکم جنوری (ایس او نیوز) قریبی تعلقہ سولیا میں ہوئے ایک وحشیانہ حملے کے بعد ہوئی سولیا کسبہ کے رہنے والے عبدالجبار کی موت کے سلسلے میں دو افراد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے اور مبینہ طور پر جرم میں استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا ہے۔
عبدالجبار کی بیوی سُمیہ (35) کی طرف سے پولیس کے پاس درج کی گئی شکایت کے مطابق اس کے شوہر کو 16 اکتوبر کو دوپہر کے وقت محمد رفیق (41) اور منوہر کے ایس عرف منو (42) نے اغوا کیا تھا۔
ممکنہ کرایہ دار ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے ملزمین نے عبدالجبار کو لالچ دے کر پہلے دوگلاڈکا اور پھر سولیا کالوگنڈی لے گئے اور وہاں اس پر حملہ کیا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ عبدالجبار پر 16 اکتوبر کو حملہ کیا گیا تھا اور اگلی شام کو اس کی طبیعت بگڑنے پر اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ داخلے کے چند گھنٹے بعد ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
سمیہ نے اپنی شکایت میں بتایا تھا کہ"حملے کے بعد اگلے دن میرے شوہر گھر میں شدید بیمار ہو گئے اور ہمیں انہیں ہسپتال لے جانا پڑا۔ علاج کے باوجود وہ زندہ نہیں بچ سکے۔"
18 اکتوبر کو شکایت ہونے کے بعد سولیا پولیس نے بی این ایس کی دفعہ 105 اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا۔
جب میڈیکل رپورٹس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ عبدالجبار کی موت براہ راست حملے کی وجہ سے ہوئی ہے تو پولیس نے اس کیس کو بی این ایس دفعہ 103 اور 3(5) کے تحت قتل کے مقدمے میں تبدیل کیا۔
پولیس کی تحقیقات کے نتیجے میں سولیا کسبہ کے رہنے والے محمد رفیق اور سولیا سمپاجے کے رہنے والے منوہر کے ایس کو گرفتار کیا گیا۔ دونوں کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد مزید تفتیش کے لئے پولیس کی تحویل میں دیا گیا ہے۔ پولیس نے جرم میں استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا ہے اور اس واردات کے پیچھے کے مکمل حالات کا تعین کرنے کے لیے پوچھ تاچھ کررہی ہے ۔