ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / ریاست، عقیدہ اور حب الوطنی،کیا قومی وفاداری کو ناپنے کا پیمانہ بدلا جا رہا ہے؟-------از: عبدالحلیم منصور

ریاست، عقیدہ اور حب الوطنی،کیا قومی وفاداری کو ناپنے کا پیمانہ بدلا جا رہا ہے؟-------از: عبدالحلیم منصور

Sat, 14 Feb 2026 13:26:54    S O News
ریاست، عقیدہ اور حب الوطنی،کیا قومی وفاداری کو ناپنے کا پیمانہ بدلا جا رہا ہے؟-------از: عبدالحلیم منصور

کسی بھی قوم کی شناخت اس کی علامتوں، ترانوں اور تاریخی شعور سے وابستہ ہوتی ہے، مگر جمہوری معاشروں میں یہی علامتیں اس وقت حقیقی وقار حاصل کرتی ہیں جب وہ دلوں کی آمادگی کا مظہر ہوں، نہ کہ قانونی جبر کا نتیجہ۔ وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی بحث نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ کیا ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مخصوص نغمے کی ادائیگی کو حب الوطنی کا معیار بنا دے، خصوصاً اس صورت میں جب اس کے بعض اشعار کو ملک کے ایک بڑے مذہبی طبقے کی جانب سے اپنے عقیدے سے متصادم سمجھا جاتا ہو۔

تاریخی اعتبار سے وندے ماترم آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم حوالہ رہا ہے۔ بنکیم چندر چٹرجی کے ناول ’’آنند مٹھ‘‘ میں شامل یہ نغمہ برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کی علامت بن کر ابھرا۔ تاہم اسی متن میں وطن کو دیوی کے پیکر میں پیش کیا گیا اور بعض اشعار میں ایسے تقدیسی استعارات ملتے ہیں جنہیں توحید پر مبنی اسلامی عقیدے سے ہم آہنگ نہیں سمجھا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ 1937 میں سیاسی قیادت نے اس کے ابتدائی دو بندوں کو قابلِ قبول قرار دیتے ہوئے بقیہ حصوں کو سرکاری تقریبات سے خارج رکھنے کی سفارش کی۔ بعد ازاں 1950 میں دستور ساز اسمبلی نے ’’جن گن من‘‘ کو قومی ترانہ اور ’’وندے ماترم‘‘ کو قومی نغمہ تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسا آئینی توازن قائم کیا جس میں قومی جذبات اور مذہبی حساسیت دونوں کو ملحوظ رکھا گیا۔ یہ پس منظر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ بانیانِ جمہوریت نے غور و فکر کے بعد ایک محتاط اور ہم آہنگ راستہ اختیار کیا تھا۔

آئینی زاویے سے یہ معاملہ مزید اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ آرٹیکل 19(1)(a) شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ 1986 کے معروف مقدمے Bijoe Emmanuel vs State of Kerala میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ حب الوطنی کے اظہار کو جبری نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی طالب علم یا شہری قومی ترانے کے دوران احترام کے ساتھ خاموش کھڑا رہتا ہے تو اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے نے اس اصول کو مضبوطی سے تسلیم کیا کہ ریاست کا اختیار شہری کے ضمیر تک نہیں پہنچ سکتا۔ چنانچہ اگر کسی نغمے کے مکمل متن کو لازمی قرار دے کر انکار کو مشکوک حب الوطنی سے جوڑ دیا جائے تو یہ صورتِ حال آئینی روح کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔

مذہبی تناظر میں ایک مسلمان کے لیے توحید محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایمان کی اساس ہے۔ قرآن مجید میں شرک کو شدید ترین گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر متعدد علماء نے وندے ماترم کے بعض حصوں کو مذہبی طور پر قابلِ قبول نہیں سمجھا۔ یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ کوئی شہری وطن سے محبت رکھتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اسے ایسی عبارت ادا کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جسے وہ اپنے عقیدے کے خلاف سمجھتا ہو۔ ایک جمہوری ریاست کی اصل آزمائش اسی مقام پر ہوتی ہے کہ وہ اکثریتی جذبات اور اقلیتی حقوق کے درمیان انصاف کا پل کس طرح قائم کرتی ہے۔

سماجی سطح پر اس بحث کے اثرات بھی قابلِ غور ہیں۔ جب حب الوطنی کو کسی مخصوص لفظ یا نعرے سے مشروط کیا جاتا ہے تو معاشرے میں غیر محسوس طور پر تقسیم کی لکیر گہری ہو سکتی ہے۔ نوجوان نسل، جو پہلے ہی شناختی کشمکش اور سماجی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، مزید ذہنی الجھن میں مبتلا ہو سکتی ہے اگر اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی مذہبی وابستگی اور قومی وفاداری ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں۔ تعلیم کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ میں آئینی شعور، تنوع کے احترام اور مکالمے کی ثقافت کو فروغ دیا جائے، نہ کہ انہیں نظریاتی امتحان میں ڈالا جائے۔

سیاسی پہلو بھی اس بحث سے جدا نہیں۔ قومی علامتوں کا انتخابی ماحول میں نمایاں ہونا اور جذباتی صف بندی کا ذریعہ بننا ایک مانوس سیاسی حکمتِ عملی ہے۔ اس سے وقتی فائدہ ممکن ہے، مگر طویل المدت سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی موجود رہتا ہے۔ ذمہ دار قیادت کا تقاضا ہے کہ وہ قومی علامتوں کو سیاسی مفاد کے بجائے قومی اتحاد کے استحکام کا ذریعہ بنائے۔ اسی طرح کسی بھی سرکاری حکم نامے کو عدالتی نظائر، آئینی دفعات اور وفاقی ڈھانچے کے تناظر میں پرکھنا ضروری ہے۔ کثیرالثقافتی معاشرے میں یکساں ثقافتی اظہار کو لازمی قرار دینا عملی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے۔ بہتر راستہ یہی ہے کہ احترام کو فروغ دیا جائے، مگر جبر سے گریز کیا جائے۔

اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حب الوطنی کو محض علامتی امور تک محدود نہ کر دیا جائے۔ جب تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی انصاف جیسے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے جائیں اور ساری توجہ علامتوں پر مرکوز ہو جائے تو یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔ حب الوطنی کا عملی اظہار آئین کی پاسداری، دیانت دار حکمرانی اور عوامی خدمت میں مضمر ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جو کسی بھی نعرے یا علامت کو حقیقی معنویت عطا کرتی ہے۔

حل تصادم میں نہیں بلکہ مکالمے میں ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ مختلف سماجی و مذہبی طبقات سے مشاورت کرے اور ایسا راستہ اختیار کرے جو سب شہریوں کو ساتھ لے کر چلے۔ مذہبی قیادت کو بھی جذباتی ردعمل کے بجائے آئینی اور پُرامن جدوجہد کو ترجیح دینی چاہیے۔ جمہوریت کی اصل قوت اسی میں ہے کہ وہ اختلاف کو برداشت کرتی ہے اور تنوع کو قومی طاقت میں تبدیل کرتی ہے۔

وندے ماترم کی تاریخی عظمت اپنی جگہ، مگر اسے لازمی بنا کر کسی مخصوص مذہبی طبقے کے عقیدے سے متصادم صورت پیدا کرنا آئینی اور سماجی دونوں حوالوں سے نہایت حساس معاملہ ہے۔ حب الوطنی کا حقیقی حسن اسی میں ہے کہ وہ دلوں سے ابھرے، نہ کہ احکامات سے۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے تنوع کو اپنی طاقت سمجھے اور ہر شہری کو اس کے ضمیر کے مطابق جینے کا غیر مشروط حق فراہم کرے۔

 بنے ہیں اہلِ ہوس مدّعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

 

اس کالم میں شائع مضامین کا ادارئے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے


Share: