مکہ مکرمہ، 2 جون (ایس او نیوز / ایجنسی): سعودی عرب میں حج 2025 کے پیش نظر سخت اقدامات نافذ کرتے ہوئے 2,69,678 افراد کو بغیر اجازت نامے کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ غیر مجاز زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور گزشتہ سال شدید گرمی کے باعث ہونے والی اموات کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔
سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ بغیر اجازت حج ادا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ ایسے افراد پر 5,000 امریکی ڈالر تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے اور آئندہ سعودی عرب میں داخلے پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔ اب تک 23,000 سے زائد سعودی شہریوں کو بھی حج قوانین کی خلاف ورزی پر سزا دی جا چکی ہے، جبکہ 400 سے زائد حج کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں داخلے کے لیے اجازت نامہ ہر فرد کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے، چاہے وہ شہر کا مستقل رہائشی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اقدام حج کے دوران ہجوم پر قابو پانے اور زائرین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
مزید برآں، حج کے دوران مؤثر نگرانی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سعودی حکام نے جدید ٹیکنالوجی، بشمول ڈرونز، کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ یہ ڈرونز ہجوم کی مانیٹرنگ، نگرانی اور آگ بجھانے جیسے کاموں میں مدد فراہم کریں گے۔
یاد رہے کہ حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے، جو ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد حج کی روحانیت اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا، زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانا، اور غیر مجاز افراد کی شرکت کو روکنا ہے۔
حکام نے تمام زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے اجازت نامے حاصل کریں اور کسی غیر قانونی یا غیر سرکاری ذریعے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی یا جرمانے سے بچا جا سکے۔