بھٹکل 25 جولائی (ایس او نیوز) بھٹکل اور اطراف کے علاقوں میں گزشتہ چند دنوں سے جاری شدید بارش نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، گزشتہ دو مہینوں کے دوران 3000 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جسے گزشتہ پچاس سالوں میں سب سے زیادہ بارش قرار دیا جا رہا ہے۔
شہر میں وقفے وقفے سے جاری موسلا دھار بارش کی وجہ سے سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ مختلف علاقوں جیسے شمس الدین سرکل، تنگن گنڈی کراس، اور نیشنل ہائی وے 66 پر بار بار پانی بھر جانے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے، اور گاڑیوں کو گہرے پانی سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ پیدل چلنے والے افراد، بالخصوص اسکول اور کالج کے طلبہ، سخت مشکلات کا شکار ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، جمعرات صبح آٹھ بجے سے جمعہ صبح آٹھ بجے تک بھٹکل میں 136.4ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ امسال جمعہ صبح آٹھ بجے تک جملہ بارش 3290 ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ جبکہ برسات کا موسم ختم ہونے میں ابھی دو مہینے باقی ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو شہریوں کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بارش کے سبب کڈوین کٹے، سرابی ندی، اور چوتنی ندی جیسی اہم ندیوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے، جس کے پیش نظر ندی کنارے رہنے والے افراد کو چوکنا رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ دوسری جانب، طوفانی ہواؤں اور اونچی لہروں کے باعث ماہی گیروں کی چھوٹی کشتیاں اُلٹنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں،جس کے بعد ماہی گیری سرگرمیاں بھی رک سی گئی ہیں ۔
واضح رہے کہ نیشنل ہائی وے 66 پر برسات کے موسم میں پانی جمع ہونے کی شکایت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا گیا ہے۔ نہ ہی نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے مؤثر اقدامات کیے گئے اور نہ ہی بلدیہ کی طرف سے کسی پائیدار حل کی کوشش کی گئی ہے۔