ممبئی 5/جولائی (ایس او نیوز): مہاراشٹرا نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے اور شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے صدر ادھو ٹھاکرے دو دہائیوں بعد پہلی مرتبہ سنیچر کوایک اسٹیج پر نظر آئے، جسے سیاسی حلقوں میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ممبئی میں ہفتہ 5 جولائی کو منعقدہ اس عوامی جلسے میں راج ٹھاکرے نے جذباتی انداز میں کہا: "گزشتہ 20 برسوں سے ہمیں ایک کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں، حتیٰ کہ بالا صاحب ٹھاکرے نے بھی کئی بار یہ کوشش کی، لیکن بالآخر دیویندر فڑنویس کی ایک چالاکی نے آج دونوں بھائیوں کو متحد کر دیا۔" ان کی اس بات پر مجمع میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا۔
راج اور ادھو نے اپنی تقریروں میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت تیسری زبان کے نفاذ پر ریاستی حکومت کے یوٹرن کا مذاق اڑایا، اور بی جے پی پر زبان کی بنیاد پر ریاست کو تقسیم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا۔
راج ٹھاکرے نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: "آج زبان کی بنیاد پر ہمیں تقسیم کرتے ہیں، کل ذات پات کی بنیاد پر بانٹنے کی کوشش کریں گے۔ مہاراشٹریوں کی دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ متحد رہیں اور بی جے پی کو مسترد کر دیں۔"
یاد رہے کہ 2006 میں راج ٹھاکرے نے شیو سینا سے علیحدگی اختیار کرکے ایم این ایس قائم کی تھی، اور ادھو سے مصالحت کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ تاہم ریاست میں ہندی کو جبراً تیسری زبان کے طور پر نافذ کرنے کی کوششوں نے دونوں بھائیوں کو قریب لا دیا۔
راج ٹھاکرے نے سوال اٹھایا: "مہاراشٹرا اور جنوبی ریاستوں میں تو تین زبانوں کی بات ہوتی ہے، لیکن راجستھان، مدھیہ پردیش، بہار یا اتر پردیش میں تیسری زبان کون سی پڑھائی جاتی ہے؟"
ادھو ٹھاکرے نے کہا: "ہم آخرکار متحد ہو گئے ہیں، اور اب ساتھ ہی رہیں گے۔"
اگرچہ دونوں نے اپنی سیاسی حکمت عملی یا پارٹی انضمام کے حوالے سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا، لیکن ایک ساتھ اسٹیج شیئر کرنا آنے والے بلدیاتی انتخابات، خصوصاً برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات، کے لیے بڑی علامتی اہمیت رکھتا ہے۔
ادھو نے بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا: "کبھی ‘ون نیشن، ون الیکشن’ کی بات کرتے ہیں، اب ‘ہندی، ہندو، ہندوستان’ کا نعرہ دے رہے ہیں۔ ہم ہندو اور ہندوستان سے اتفاق کرتے ہیں، مگر ہندی مسلط کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔"
راج ٹھاکرے نے زور دیا کہ تعلیم کا میڈیم مراٹھی زبان سے محبت کو کمزور نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا: "میرے والد شری کانت اور چچا بالا صاحب دونوں انگلش میڈیم اسکول میں پڑھے، مگر ساری زندگی مراٹھی زبان کے لیے لڑتے رہے۔"
انہوں نے مزید کہا: "ایل کے اڈوانی مشنری اسکول میں پڑھے تھے، تو کیا ہم ان کے ہندوتوا پر شک کریں؟"
ادھو نے طنزیہ انداز میں کہا: "راج نے سب کی تعلیم بتا دی، اب کوئی بتائے مودی جی کہاں پڑھے تھے؟"
اس جلسے میں شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے دھڑے، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی)، اور مراٹھی ابھیاس کیندر کے سرکردہ پروفیسر دیپک پوار بھی شریک ہوئے۔
راج اور ادھو کی تقاریر کے بعد سپریا سولے، جتیندر آوہاڑ، دیپک پوار اور پرکاش ریڈی کو اسٹیج پر بلا کر اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ اسی ہفتے ممبئی پولیس نے دیپک پوار اور ادھو کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف 29 جون کو آزاد میدان میں "غیر قانونی اجتماع" کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔
پروفیسر دیپک پوار نے ہی اپریل میں بی جے پی حکومت کی جانب سے کلاس 1 سے 5 تک ہندی کو لازمی تیسری زبان بنانے کے فیصلے کی پہلی مخالفت کی تھی۔ عوامی دباؤ کے بعد جون میں حکومت نے نیا حکم نامہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ اگر 20 طلبہ متبادل زبان کا انتخاب کریں تو وہ اختیار دی جا سکتی ہے، لیکن 29 جون کو یہ نیا فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا۔