نئی دہلی ، 8/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی)دہلی اسمبلی انتخابات کی سرگرمیوں کے دوران ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کے بنگلے پر سیاست گرم ہو گئی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب الیکشن کمیشن نے اسمبلی انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کیا۔ پی ڈبلیو ڈی نے دہلی حکومت سے 6 فلیگ اسٹاف روڈ پر واقع بنگلہ واپس لے لیا ہے، جو اس وقت وزیر اعلیٰ آتشی کو الاٹ کیا گیا تھا۔ اس بنگلے میں پہلے عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال وزیر اعلیٰ کے طور پر رہتے تھے اور انھوں نے اس بنگلے کی تزئین و آرائش کرائی تھی، جسے کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے ’شیش محل‘ کا لقب دیا تھا۔
پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے بنگلے کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے اسے خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی محکمہ نے وزیر اعلیٰ کو رہنے کے لیے 2 بنگلے کا متبادل پیش کیا ہے۔ پیش کردہ متبادل میں ایک راج نواس روڈ پر واقع بنگلہ نمبر 2 ہے، جبکہ دوسرا انصاری روڈ پر واقع بنگلہ نمبر 115 ہے۔ پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب بی جے پی ’سی ایم ہاؤس‘ کے رینوویشن پر ہوئے خرچ کے حوالے سے سابق وزیر اعلیٰ کیجریوال کو سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے بنگلہ خالی کرنے کے حکم کے بعد ایک بار پھر دہلی میں سیاسی لیڈران کا ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ راجیہ سبھا رکن اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ نے کہا کہ ’’گزشتہ 3 ماہ میں یہ دوسری بار ہے جب دہلی کی وزیر اعلیٰ کی رہائش کو رد کر دیا گیا ہے۔ بی جے پی کا جھوٹ سب کے سامنے آنا چاہیے۔ یہ لوگ دن رات وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے حوالے سے جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔ میں بی جے پی کو چیلنج کرتا ہوں کہ کل 11 بجے میڈیا کے ساتھ چلیے سونے کے بیت الخلاء، مِنی بار اور پُل تلاش کریں گے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ایک روز قبل (6 جنوری کو) بی جے پی کے قومی ترجمان سمبت پاترا نے وزیر اعلیٰ کے بنگلہ کے رینوویشن پر ہونے والے خرچ کے حوالے سے سوال اٹھایا تھا۔ انہوں نے سی اے جی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بنگلہ کے رینوویشن کے لیے مختص کردہ رقم تقریباً 8 کروڑ روپے تھی لیکن 33 کروڑ روپے تک خرچ ہو گئے۔ ساتھ ہی انہوں نے بنگلے میں لگائے گئے مہنگے مہنگے سامان کے متعلق بھی عام آدمی پارٹی کی حکومت پر تنقید کی ہے۔ بی جے پی نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ رینوویشن کے لیے کسی بھی صحیح قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔