بھٹکل، یکم جنوری (ایس او نیوز): بھٹکل تعلقہ میں آدھار کارڈ کے حصول اور پہلے سے موجود آدھار میں نام، تاریخِ پیدائش اور پتہ جیسی اہم تفصیلات کی درستگی کے لیے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی شہر کے پوسٹ آفس کے باہر علی الصبح سے ہی لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جس کے باعث عوام کو روزانہ کی بنیاد پر سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
قبل ازیں تعلقہ انتظامیہ کی منی سودھا عمارت میں آدھار اندراج اور ترمیم کی سہولت دستیاب تھی، تاہم تقریباً ایک ماہ قبل اس مرکز کو بند کر دیا گیا۔ فی الحال پورے تعلقہ میں پوسٹ آفس ہی واحد مرکز رہ گیا ہے، جہاں اتوار اور سرکاری تعطیلات کے علاوہ پیر سے ہفتہ تک روزانہ صرف 30 سے 40 ٹوکن ہی جاری کیے جا رہے ہیں
صورتِ حال یہ ہے کہ نہ صرف شہر بلکہ تعلقہ کے مختلف دیہی علاقوں سے آنے والے افراد بھی ٹوکن حاصل کرنے کے لیے پوسٹ آفس کے سامنے جمع ہو رہے ہیں۔ ہفتہ وار مقررہ تعداد میں ٹوکن ختم ہونے کے بعد درخواست جمع نہ کرا پانے والے افراد کو اگلے ہفتے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال سے روزانہ مزدوری کر کے گزر بسر کرنے والے محنت کش طبقے کو خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ آدھار کارڈ کے چکر میں انہیں کام پر جانے سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔
پوسٹ آفس حکام کے مطابق آدھار اندراج اور ترمیم کا تمام عمل وہیں موجود عملہ انجام دے رہا ہے، جس کے باعث روزانہ زیادہ سے زیادہ 30 سے 40 درخواستوں پر ہی کارروائی ممکن ہو پا رہی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل آدھار کارڈ رکھنے والے افراد خود یا سائبر مراکز کے ذریعے آن لائن ترمیم کروا سکتے تھے، تاہم مبینہ غلط استعمال کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر اس سہولت کو منسوخ کر دیا گیا، جس کے بعد عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اگرچہ گرام پنچایت سطح پر آدھار خدمات شروع کرنے کے لیے عملے کو تربیت بھی دی جا چکی ہے، مگر تاحال ان مراکز میں کام شروع نہیں ہو سکا۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر پہلے کی طرح گرام پنچایت دفاتر میں ہی آدھار کارڈ کے اندراج اور ترمیم کی سہولت فراہم کی جائے تو دیہی علاقوں کے لوگوں کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔ اس تعلق سے متاثرین، عوامی نمائندوں اور سماجی اداروں کے ذمہ داران سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور جلد از جلد مناسب حل نکالیں۔