ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / یکم نومبر کے بعد غیر قانونی بندوق رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: شیوکمار

یکم نومبر کے بعد غیر قانونی بندوق رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی: شیوکمار

Sat, 12 Sep 2026 12:26:14    S O News

بنگلورو ، 12 /ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی )وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے غیر قانونی اور بغیر لائسنس کی بندوقیں رکھنے والے افراد کو ہدایت دی ہے کہ وہ یکم نومبر تک اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کردیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد رضاکارانہ طور پر غیر قانونی ہتھیار حکومت کے حوالے کریں گے، ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔

وہ جمعہ کو ملیشورم کے جنگلات بھون میں منعقدہ قومی یوم جنگلات شہدا کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ محکمہ جنگلات کے کئی اہلکار بغیر لائسنس کی بندوقوں کے باعث اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی یا اپنے مویشیوں کی حفاظت کے لیے بندوق رکھنا چاہتا ہے تو اسے باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سابق میں رام مورتی نامی ایک سینئر افسر نے غیر قانونی دیسی بندوقیں رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد کی نشاندہی کی تھی۔ اس وقت انہوں نے اپنے حلقے میں عوام سے 300 سے زائد بندوقیں حکومت کے حوالے کروائی تھیں۔ حکومت کو اب بھی ایسے مزید غیر قانونی ہتھیاروں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کے جنگلاتی وسائل کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانے والے محکمہ جنگلات کے کئی اہلکار جنگلی حیات کے ساتھ تنازعات کے دوران اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ محکمہ کے ملازمین کے الاؤنس سے متعلق وزیر کی درخواست پر غور کیا جائے گا اور محکمہ مالیات سے بات چیت کے بعد پولیس محکمہ کو بھی شامل کرتے ہوئے مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے اپنے جنگلات سے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا آبائی علاقہ، گھر اور سیاسی حلقہ جنگلات سے قریب رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ارکاوتی میں کبھی مہاشیر مچھلیاں پائی جاتی تھیں اور وہ خود بھی وہاں مچھلی پکڑنے کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔

ڈی کے شیوکمار نے اپنے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک وقت میں وزیر جنگلات بننے کی خواہش تھی۔ ایس ایم کرشنا کے دور میں انہوں نے اس سلسلے میں درخواست بھی کی تھی، تاہم انہیں وزیر زراعت بنایا گیا۔ بعد میں محکمہ زراعت جے چندرا کو دے کر انہیں محکمہ تعاون کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس وقت ان کی عمر 38 سال تھی۔ کابینہ کی توسیع کے دوران بھی انہیں محکمہ جنگلات کے بجائے شہری ترقی کا محکمہ دیا گیا۔ اسی دوران اداکار راج کمار کے اغوا کا واقعہ پیش آیا تھا۔

ڈی کے شیوکمار نے محکمہ جنگلات کے افسران سے کہا کہ وہ جنگلات کے اطراف رہنے والے عوام کے ساتھ دوستانہ ماحول قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگ پولیس کو قبول کرتے ہیں، لیکن محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے بارے میں بعض علاقوں میں مختلف تاثر پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگلاتی اراضی پر قبضے کا مسئلہ آج یا کل کا نہیں ہے اور اسے قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ عوام پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالا جائے۔ بعض معاملات میں محکمہ جنگلات کے افسران ضرورت سے زیادہ سخت رویہ اختیار کرتے ہیں، جس سے ترقیاتی کام متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جہاں ضروری ہو مناسب رعایت بھی دی جانی چاہیے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ زمین ہماری ملکیت نہیں بلکہ اسے محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انسان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، آخرکار اسی مٹی کا حصہ بنتا ہے۔ انہوں نے محکمہ جنگلات کے کئی افسران کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صلاحیت اور دیانت داری کی وجہ سے کئی علاقوں میں جنگلات محفوظ ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے محکمہ جنگلات کے افسران پر زور دیا کہ وہ ساگوان کی دولت منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا اور محکمہ جنگلات کی آمدنی میں اضافے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے سابق وزیر کے ایچ رنگناتھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں نجی اراضی پر صندل کے درخت اگانے کی اجازت دی گئی تھی۔

کستوری رنگن کمیٹی کی رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس رپورٹ کو تین چار مرتبہ واپس بھیجا ہے۔ ان کے مطابق کرناٹک اور کیرالہ کے لیے الگ الگ معیار اختیار کیے جانے کا معاملہ زیر بحث ہے اور اس سلسلے میں خصوصی اجلاس طلب کرکے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ کبینی کا دورہ کرنے کے دوران انہوں نے وہاں موجود وافر جنگلی حیات کو قریب سے دیکھا اور مختصر وقت میں 250 سے زائد ہاتھی دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک قدرتی اور جنگلی حیات کے اعتبار سے بے حد مالا مال ہے اور جنگلات کے تحفظ پر سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بھی خصوصی توجہ دی تھی۔

انہوں نے اپنے آبائی علاقے کے قریب واقع شیوال دپّا پہاڑی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بڑی تعداد میں بانس پیدا ہوتا تھا، جس سے مقامی لوگ بانس کی ٹوکریاں تیار کرتے تھے۔ انسان اور سبزے کے درمیان گہرا تعلق ہے اور اس تعلق کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہر میں محکمہ جنگلات کی ملکیت والی اراضی پر ٹری پارک قائم کرکے بنگلورو کے سبز رقبے اور ماحولیاتی نظام کو وسعت دی جائے گی۔ اسکولی طلبہ کے ذریعے شجرکاری کے پروگرام بھی منعقد کیے گئے تھے اور بنگلورو میں اس کا اچھا ردعمل ملا۔ انہوں نے شہری بلدیاتی اداروں کو بھی اس پروگرام پر مزید توجہ دینے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے جنگلاتی وسائل کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں محکمہ جنگلات کے ایک اعلیٰ افسر کے دفتر سے ہاتھی دانت چوری کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے گھر کے قریب اور وزرا کے گھروں کے صحن میں موجود صندل کے درخت چوری کرنے کی کوششوں کے واقعات دیکھے ہیں۔ ڈی کے شیوکمار نے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اور رام لنگا ریڈی نے 9 انتخابات کا سامنا کیا ہے اور دونوں نے ایک ایک مرتبہ شکست بھی دیکھی ہے، تاہم مسلسل 8 مرتبہ کامیاب ہونے والے دونوں واحد رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سدارامیا اور بی ایس یدیورپا جیسے سینئر رہنما بھی اپنے سیاسی سفر میں کسی نہ کسی مرحلے پر انتخاب ہار چکے ہیں۔


Share: