جکارتہ، 13 ستمبر (ایس او/انترا/الجزیرہ نیوز): انڈونیشیا میں جاوا سمندر کے اندر ایک بڑا مسافر بردار جہاز خراب موسم کے دوران الٹ جانے کے بعد تقریباً 140 افراد لاپتہ ہوگئے ہیں، جبکہ امدادی ٹیموں نے 102 افراد کو زندہ بچا لیا ہے اور ایک شخص کی لاش برآمد کی ہے۔ حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ خراب سمندری حالات کے باوجود لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
حادثے کا شکار ہونے والا جہاز Virgo Transport 8 ہفتہ، 12 ستمبر کو انڈونیشیا کے مشرقی جاوا صوبے کے شہر سورابایا (Surabaya) سے جنوبی کالیمانتان صوبے کے بنجرماسن (Banjarmasin) کے لیے روانہ ہوا تھا۔ جہاز کو اتوار کی صبح تقریباً 2 بجے مقامی وقت پر شدید موسم کا سامنا ہوا اور اس کے بعد اس کا آپریٹر سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ جہاز کی آخری معلوم پوزیشن بنجرماسن سے تقریباً 148 کلومیٹر (81 بحری میل) دور جاوا سمندر میں بتائی گئی ہے۔
جہاز میں 243 افراد سوار تھے:
انڈونیشیا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی Basarnas کے مطابق جہاز کے مینی فیسٹ میں مجموعی طور پر 243 افراد درج تھے۔ ابتدائی بین الاقوامی رپورٹس میں ان میں 213 مسافر اور 30 عملے کے ارکان بتائے گئے ہیں۔ تاہم انڈونیشی حکام کی مقامی تفصیلات کے مطابق مینی فیسٹ میں مسافروں، ڈرائیوروں، عملے اور دیگر متعلقہ افراد کو الگ الگ شمار کیا گیا ہے، اس لیے بعض رپورٹس میں تعداد کی تفصیل مختلف انداز میں سامنے آئی ہے۔
تازہ ترین دستیاب معلومات کے مطابق 103 افراد کو جہاز سے نکالا گیا، جن میں 102 زندہ ہیں جبکہ ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ باقی 140 افراد کی تلاش جاری ہے۔
خراب موسم کے باعث جہاز نے ہنگامی پیغام بھیجا:
ریسکیو حکام کے مطابق جہاز کے کپتان نے خراب موسم اور سمندر میں بلند لہروں کی اطلاع دی تھی۔ کپتان نے بتایا تھا کہ جہاز ایک طرف جھک رہا ہے، جس کے بعد ہنگامی پیغام بھیجا گیا۔ بعد میں حکام کو اطلاع ملی کہ Virgo Transport 8 الٹ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت سمندر میں لہریں تقریباً 2.5 سے 3 میٹر (8 سے 10 فٹ) تک بلند تھیں۔ بنجرماسن سرچ اینڈ ریسکیو آفس کے سربراہ I Putu Sudayana نے بتایا کہ یہ حالات امدادی کارروائی کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 میٹر طویل Basarnas کا ریسکیو جہاز بھی بلند لہروں کے باعث خطرے سے دوچار ہے۔
تین تجارتی جہازوں نے 103 افراد کو بچایا:
حادثے کے بعد قریبی تجارتی جہازوں نے سب سے پہلے امدادی کارروائی شروع کی۔ TB Mauhau IX نے 16 افراد کو نکالا، جن میں 15 افراد زندہ تھے جبکہ ایک شخص کی موت ہوچکی تھی۔ یہ افراد بعد میں مشرقی جاوا کی Tuban Port لے جائے جا رہے تھے۔
دوسرے جہاز TB TCP نے 38 افراد کو زندہ بچایا، جبکہ MV Haida نے مزید 49 افراد کو محفوظ نکالا۔ ان 87 زندہ بچائے گئے افراد کو جنوبی کالیمانتان کے Trisakti Port، Banjarmasin منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 102 افراد زندہ بچائے گئے جبکہ ایک لاش بھی برآمد ہوئی۔
بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری:
لاپتہ افراد کی تلاش میں اب کئی سرکاری اور بحری ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ Basarnas کے ریسکیو جہاز KN SAR Laksmana کے علاوہ انڈونیشیا کی بحریہ کا KRI Nala اور نیویگیشن جہاز KM Kunyit بھی سرچ آپریشن میں شامل ہیں۔ ایک ہیلی کاپٹر بھی تلاش کے کام میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ قریبی تجارتی اور ٹگ بوٹس کو بھی امدادی کارروائی میں شامل کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں جہاز کی آخری معلوم پوزیشن کے اردگرد سمندری علاقے میں زندہ بچ جانے والوں اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں۔ تاہم تیز ہواؤں اور تقریباً ڈھائی سے تین میٹر بلند لہروں کے باعث آپریشن میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
مسافروں کے اہل خانہ بنجرماسن میں جمع:
حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد مسافروں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بنجرماسن پہنچ رہے ہیں۔ مقامی حکام نے Trisakti Port میں ایک ہنگامی رابطہ مرکز قائم کیا ہے، جہاں متاثرہ خاندانوں کو معلومات فراہم کرنے اور بچائے گئے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔