نئی دہلی 3 جولائی (ایس او نیوز): بہار میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع جانچ (Special Intensive Revision – SIR) پر گیارہ اپوزیشن جماعتوں نے شدید اعتراض کیا ہے۔ کانگریس، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، سماج وادی پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) سمیت دیگر INDIA اتحاد کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ انتخابات سے عین قبل اس طرح کی جانچ غیر منصفانہ ہے اور اس کا مقصد انتخابی میدان کو یکطرفہ بنانا ہے۔
بدھ کے روز ان جماعتوں کے 18 رکنی وفد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر کمشنروں سے ملاقات کی، جس میں سینئر کانگریس لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی، آر جے ڈی کے منوج جھا، سی پی آئی-ایم ایل کے دپانکر بھٹتاچاریہ اور بہار کانگریس صدر راجیش کمار شامل تھے۔ وفد نے جانچ کے وقت، طریقہ کار اور اس کی شفافیت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ابھیشیک منو سنگھوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جون کے آخر میں اس جانچ کا اچانک اعلان مشتبہ ہے، کیونکہ ماضی میں اس طرح کی جانچیں انتخابات سے کافی وقت پہلے کی جاتی تھیں۔ انہوں نے کہا، ’’2003 میں جب SIR کیا گیا تھا، تب عام انتخابات ایک سال اور اسمبلی انتخابات دو سال بعد تھے۔ اب صرف چند ماہ باقی ہیں، اور 7.75 کروڑ ووٹروں کی جانچ اتنے کم وقت میں ممکن نہیں۔‘‘
اپوزیشن لیڈران نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی نمائندوں پر نئی پابندیوں پر بھی اعتراض کیا، جس کے تحت ہر پارٹی سے صرف دو افراد، وہ بھی پارٹی صدر سمیت، ملاقات کی اجازت دی گئی۔ سنگھوی نے بتایا کہ کئی سینئر لیڈران جیسے جے رام رمیش اور پون کھیڑا کو باہر انتظار کرنا پڑا۔
جے رام رمیش نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا، ’’الیکشن کمیشن وفد سے ملاقات پر مجبور ہوا، حالانکہ وہ پہلے انکار کر چکا تھا۔ ہم میں سے کئی لوگوں کو ملاقات کا موقع نہیں ملا۔ میں خود دو گھنٹے انتظار کرتا رہا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چھ مہینوں میں الیکشن کمیشن نے ایسے فیصلے کیے ہیں جو جمہوری نظام کی بنیادوں کو کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’نئے کمیشن‘‘ کا بہانہ قرار دیا اور اس کے ارادوں پر سوال اٹھایا۔ جے رام رمیش نے کمیشن کے فیصلے کو 2016 کی نوٹ بندی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا، ’’جیسے وزیر اعظم کی نوٹ بندی نے معیشت کو برباد کیا، ویسے ہی الیکشن کمیشن کی یہ ’ووٹ بندی‘ بہار میں جمہوریت کو برباد کرے گی۔‘‘
اپوزیشن لیڈروں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ اس بار ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے صرف آدھار یا راشن کارڈ کافی نہیں، بلکہ پیدائشی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے، جو کہ پچھلے دس برسوں میں کبھی نہیں ہوا۔ آر جے ڈی کے منوج جھا نے سوال کیا کہ آیا یہ عمل کسی طبقے کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش تو نہیں؟
الیکشن کمیشن نے ملاقات کے بعد دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے تمام خدشات کو دور کیا گیا ہے، لیکن INDIA اتحاد کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ بہار جیسے حساس سیاسی ماحول میں، انتخابات سے عین قبل کی جانے والی یہ مشق شفافیت اور غیرجانبداری کے اصولوں پر سوال کھڑے کرتی ہے۔