نئی دہلی/پٹنہ 28 جون (ایس او نیوز) بہار اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ کی خصوصی اور سخت نظرثانی (Special Intensive Revision - SIR) کے اعلان پر سیاسی ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے ’این آر سی کو پیچھے کے دروازے سے نافذ کرنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔
نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ایم سی کے سینئر رہنما ڈیرک او برائن نے الیکشن کمیشن پر سیاسی دباؤ میں کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو نازی جرمنی کے 1935 میں جاری کیے گئے "نسلی نسب" کے ثبوت والے سرٹیفکیٹس سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی دراصل اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی ایک جدید شکل ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ایک خطرناک سازش ہے جس کے ذریعے این آر سی کو چپکے سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ انڈیا الائنس کی تمام جماعتیں اس معاملے پر متحد ہیں اور جلد ہی مشترکہ قدم اٹھائیں گی۔ ہم پارلیمنٹ اجلاس کا انتظار نہیں کریں گے۔‘‘
او برائن نے ووٹر لسٹ میں ترمیم کے وقت پر بھی سوال اٹھایا، خاص طور پر جب بہار اسمبلی انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں اور مغربی بنگال میں آئندہ سال کے اوائل میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ انہوں نے اس پورے عمل کو بی جے پی کی "مایوسی پر مبنی کوشش" قرار دیا۔
الیکشن کمیشن نے ہفتہ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ خصوصی نظرثانی تمام سیاسی جماعتوں کی شمولیت سے کی جائے گی اور اس کا مقصد صرف ووٹرز کی اہلیت کی تصدیق ہے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ ’’بھارت کا آئین سب سے بالا ہے، اور تمام شہریوں، سیاسی جماعتوں اور اداروں کو اس کی پیروی کرنی چاہیے۔‘‘
بہار کے عوام کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی سازش: تیجسوی یادو کا وزیراعظم پر الزام
آر جے ڈی لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈال کر بہار کے عوام کو ووٹنگ کے حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر تیجسوی نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ موجودہ ووٹر لسٹ کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیا جائے اور صرف 1987 سے پہلے کے کاغذی دستاویزات کی بنیاد پر نئی فہرست 25 دنوں کے اندر تیار کی جائے۔
’’یہ ایک دانستہ سازش ہے جس کے تحت خصوصی نظرثانی کے نام پر لاکھوں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں، تاکہ انہیں راشن، پنشن، ریزرویشن، اور اسکالرشپ جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم کیا جا سکے،‘‘ تیجسوی نے کہا۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے عظیم اتحاد (مہاگٹھ بندھن) کے دیگر رہنماؤں سے تفصیلی بات چیت کی ہے۔
آنے والے انتخابات میں بی جے پی، نتیش کمار کی جے ڈی یو کے ساتھ اتحاد میں میدان میں اترے گی، جبکہ تیجسوی یادو کی آر جے ڈی انڈیا الائنس کے حصے کے طور پر برسر اقتدار اتحاد کا مقابلہ کرے گی۔
پس منظر: ووٹر ڈیٹا سے متعلق تفصیلات
رپورٹس کے مطابق، بہار کے کل 7,89,69,844 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے تقریباً 4.96 کروڑ افراد کے نام یکم جنوری 2003 کو شائع ہونے والی ووٹر لسٹ میں شامل تھے۔ ان افراد کو نئی فہرست کے لیے صرف ایک سادہ فارم بھر کر جمع کرانا ہوگا اور انہیں اضافی دستاویزات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔