بھٹکل، 13 فروری (ایس او نیوز): چاند رات میں ابھی چار دن باقی ہیں، تاہم چاند کی باقاعدہ رویت سے قبل ہی دنیا کے بعض ممالک نے فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر رمضان المبارک 1447ھ کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ منگل 17 فروری کی شام چاند نظر آنا ممکن نہیں ہوگا، اس لیے بدھ کے بجائے جمعرات 19 فروری 2026 کو پہلا روزہ رکھا جائے گا۔
فلکیاتی ماہرین اور سرکاری اعلامیوں کے مطابق عمان اور ترکی سمیت بعض دیگر ممالک نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ یکم رمضان جمعرات 19 فروری کو ہوگی، جبکہ کئی ممالک میں حتمی فیصلہ روایتی رویتِ ہلال کمیٹیوں کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔
خلیجی میڈیا رپورٹس کے مطابق عمان خلیج تعاون کونسل (GCC) کا پہلا ملک ہے جس نے سرکاری طور پر تاریخ کا اعلان کیا۔ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے مطابق 29 شعبان (17 فروری) کو چاند غروبِ آفتاب سے پہلے یا اسی وقت غروب ہو جائے گا، جس کے باعث اس کی رویت ممکن نہیں ہوگی۔ چنانچہ شعبان کے 30 دن مکمل کیے جائیں گے اور 19 فروری کو پہلا روزہ رکھا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی کے ادارۂ امورِ دینیہ نے بھی فلکیاتی حسابات کی روشنی میں 19 فروری کو یکم رمضان قرار دیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 17 فروری کو بیشتر عرب و اسلامی ممالک میں ہلال کی رویت ممکن نہیں ہوگی۔
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے موصول اطلاعات کے مطابق وہاں روایتی رویتِ ہلال کمیٹیاں 17 فروری کی شام اجلاس منعقد کریں گی۔ ان کمیٹیوں کی شہادتوں کی بنیاد پر رمضان کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ تاہم فلکیاتی سوسائٹیوں کی پیش گوئی کے مطابق یہاں بھی 19 فروری کو رمضان شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔ البتہ سعودی عرب کے انتظامی اُمّ القریٰ کیلنڈر میں 18 فروری کو بھی ممکنہ تاریخ کے طور پر درج کیے جانے کے سبب ایک دن کے فرق کا امکان موجود ہے۔
امریکہ اور کینیڈا میں فقہ کونسل آف نارتھ امریکہ (FCNA) فلکیاتی حسابات پر عمل کرتے ہوئے 18 فروری بروز بدھ سے رمضان شروع ہونے کی نشاندہی کر چکی ہے، تاہم بعض مقامی مساجد اور کمیونٹیز عملی رویت کا انتظار بھی کر سکتی ہیں۔
پاکستان میں محکمۂ موسمیات کے مطابق رمضان کا نیا چاند 17 فروری کو شام 5 بج کر 1 منٹ (پاکستانی وقت) پر پیدا ہوگا۔ ماہرینِ فلکیات کے اندازوں کے مطابق 18 فروری کی شام ہلال نظر آنے کا قوی امکان ہے، جس کی صورت میں یکم رمضان 19 فروری کو ہو سکتی ہے۔ تاہم حتمی اعلان مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کرے گی۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق 17 فروری کو بیشتر خطوں میں چاند سورج سے پہلے غروب ہو جائے گا، جبکہ سورج اور چاند کے درمیان زاویائی فاصلہ ڈینجن (Danjon) حد سے کم ہوگا، جس کے باعث بصری رویت ناممکن ہو جاتی ہے۔ اسی روز ایک نادر حلقوی سورج گرہن بھی متوقع ہے، جو اس فلکیاتی ترتیب کی مزید توثیق کرتا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر کئی ممالک میں شعبان کے 30 دن مکمل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسلامی تقویم قمری نظام پر مبنی ہے اور ہر ماہ کا آغاز نئے چاند کی رویت سے ہوتا ہے۔ مختلف ممالک اور مذہبی ادارے مقامی رویت، عالمی رویت یا فلکیاتی حسابات میں سے کسی ایک طریقے کو اختیار کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض اوقات ایک دن کا فرق سامنے آ جاتا ہے۔
رمضان المبارک کا آغاز بدھ کو ہو یا جمعرات کو، دنیا بھر میں مسلمانوں نے روزوں اور تراویح کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ مساجد میں حفاظِ کرام کی نامزدگی، گھروں میں روحانی ماحول کی تیاری اور سماجی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
علماء نے اپیل کی ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود اتحاد و یگانگت کو برقرار رکھا جائے، باہمی احترام کا مظاہرہ کیا جائے اور رمضان المبارک کو عبادت، صبر، خیرات اور عالمی امن کے لیے دعاؤں کا ذریعہ بنایا جائے، خصوصاً اُن خطوں کے لیے جو اس وقت مشکلات اور جنگی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔