ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / نیپال میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں 600 سے متجاوز، ہزاروں افراد لاپتہ؛ 320 ہندوستانیوں سے رابطہ منقطع

نیپال میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں 600 سے متجاوز، ہزاروں افراد لاپتہ؛ 320 ہندوستانیوں سے رابطہ منقطع

Sat, 29 Aug 2026 11:40:29    S O News

کھٹمنڈو/نئی دہلی، 29/ اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) نیپال اور چین کے تبت خودمختار علاقے کی سرحد پر گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق قدرتی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 2 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ چین کے تبت خطے میں بھی کم از کم 5 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

شدید سیلابی ریلوں میں برف، چٹانیں، کیچڑ اور پانی انتہائی تیزی سے وادیوں کی جانب بڑھے، جس سے متعدد بستیاں، سڑکیں، پل اور ہائیڈرو پاور منصوبے تباہ ہوگئے۔ شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، خراب موسم اور مواصلاتی و زمینی رابطوں کے متاثر ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تاہم نیپال اور چین نے عارضی طور پر روکے گئے ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔

حکام کے مطابق اب تک 3,700 سے زائد افراد کو متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے۔ نیپال کے رسووا ضلع میں بھوٹے کوشی ندی میں آنے والی شدید طغیانی نے کنٹینر ٹرک کاروبار کو بھی بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ 400 سے زائد کنٹینر ٹرک سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں اور ان کے ڈرائیوروں سمیت ایک ہزار سے زیادہ افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

دوسری جانب ہندوستانی وزارتِ خارجہ نے بتایا ہے کہ نیپال میں تقریباً 320 ہندوستانی شہری ایسے ہیں جن سے رابطہ نہیں ہو پا رہا یا وہ لاپتہ ہیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں اور متاثرہ علاقوں کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث تعداد میں تبدیلی ممکن ہے۔ اب تک ترشولی-ون پن بجلی منصوبے میں کام کرنے والے 63 ہندوستانیوں سمیت 84 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔

چین کی سرحد کے قریب پھنسے تقریباً 400 ہندوستانی شہریوں کے بارے میں وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ محفوظ ہیں اور اپنے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں۔ بیجنگ میں ہندوستانی سفارتخانہ چینی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ چین سے 149 ہندوستانی شہری بھی سرحد عبور کرکے بحفاظت نیپال پہنچ چکے ہیں۔

ادھر رسووا میں ترشولی ہائیڈرو پاور منصوبے کی ایک سرنگ میں پھنسے 350 مزدوروں اور ملازمین کو نیپالی فوج نے بحفاظت نکال لیا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے میں متعدد ہندوستانی مزدور بھی کام کر رہے تھے۔

سیلاب کے بعد ایک نئی قدرتی جھیل نے بھی حکام کی تشویش بڑھا دی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ رسووا گڑھی سرحد سے تقریباً 18 کلومیٹر اوپر لینڈے ندی کا بہاؤ رک جانے سے عارضی جھیل بن گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر اس جھیل کا قدرتی بند ٹوٹ گیا تو نچلے علاقوں میں اچانک شدید سیلاب آسکتا ہے۔ حکام پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور نچلے علاقوں میں کیمرے اور سینسر نصب کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

قدرتی آفت کے نتیجے میں 93 ہزار سے زائد افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ نیپال نے بین الاقوامی برادری سے عام سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کے بجائے خصوصی تکنیکی مدد طلب کی ہے، جس میں سرنگوں سے ریسکیو، ڈی این اے کے ذریعے لاشوں کی شناخت، لاشوں کو محفوظ رکھنے اور عارضی پلوں کی تعمیر کے لیے ماہرین اور آلات شامل ہیں۔

دریں اثنا یورپی یونین نے متاثرہ خاندانوں اور برادریوں کے لیے 20 لاکھ یورو کی انسانی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے نیپال کے عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ اس مشکل وقت میں نیپال کے ساتھ کھڑا ہے۔ دوسری جانب ہندوستانی وزارتِ خارجہ نے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے نئی دہلی، کھٹمنڈو اور بیجنگ میں قائم کنٹرول رومز کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کا اعلان کیا ہے۔


Share: