ممبئی، 27/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی)پیر کے روز مانسون کی غیر معمولی وقت پر آمد نے ممبئی میں گزشتہ سات دہائیوں کا ریکارڈ توڑ دیا، جب مئی کے مہینے میں ہی موسلا دھار بارش نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جنوبی ممبئی میں صرف ایک گھنٹے کے دوران 104 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے سبب عام طور پر محفوظ سمجھے جانے والے علاقے جیسے کیمپس کارنر، بریچ کینڈی اور فلورا فاؤنٹین میں بھی سڑکیں پانی سے بھر گئیں۔ معمول سے ہٹ کر بارش کی شدت نے عوام کو حیرت میں ڈال دیا، خاص طور پر اس وقت جب لوگ دفاتر کے لیے روانہ ہو چکے تھے اور محکمہ موسمیات نے بعد میں ریڈ الرٹ جاری کیا، جس پر شہریوں نے ناراضی ظاہر کی۔ ممبئی کے ساتھ ساتھ تھانے میں بھی زبردست بارش ہوئی، جہاں دن بھر میں 135 ملی میٹر پانی برسنے کا اندراج کیا گیا۔
پیر کے روز ممبئی میں دن بھر گرج چمک کے ساتھ بارش ہوتی رہی، اور خاص طور پر جنوبی ممبئی میں صبح 9 سے 10 بجے کے درمیان صرف ایک گھنٹے میں 104 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ تکنیکی لحاظ سے اگر ایک گھنٹے میں 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو تو اسے ’بادل پھٹنا‘ تصور کیا جاتا ہے، اور قلابہ میں پیش آئے اس واقعے کو اسی زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، محکمہ موسمیات سے بارہا پوچھے جانے کے باوجود انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ شہر کے قلب میں واقعی بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں۔
جنوبی ممبئی میں پیر کی صبح 11 بجے تک پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 252 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو کہ مئی کے مہینے میں 19 مئی 2000 کے بعد ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے۔ محکمہ موسمیات نے دوپہر 12 بج کر 38 منٹ پر ایک وارننگ جاری کرتے ہوئے ممبئی، اس کے مضافاتی علاقوں، ضلع تھانے اور رائے گڑھ کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا۔ یہ انتباہ پیر دوپہر سے لے کر منگل کی صبح 8 بج کر 30 منٹ تک نافذ العمل رہا۔ ریڈ الرٹ کا مطلب ہوتا ہے کہ متعلقہ علاقوں میں انتہائی شدید بارش کا امکان ہے، جس سے عام زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
البتہ، چونکہ اکثر لوگ صبح سویرے ہی ملازمت یا کاروباری سرگرمیوں کیلئے گھروں سے نکل چکے تھے، اس لیے محکمہ موسمیات کی جانب سے الرٹ جاری ہونے سے قبل ہی شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مقامات پر لوکل ٹرینوں کی خدمات معطل ہو گئیں، سڑکوں پر پانی بھرنے کے باعث ٹریفک جام ہوگیا، اور میٹرو 3 کے متعدد اسٹیشنوں میں پانی داخل ہونے سے آمدورفت متاثر ہوئی۔ اس صورتحال میں شہریوں نے محکمہ موسمیات پر بروقت انتباہ جاری نہ کرنے پر ناراضی اور مایوسی کا اظہار کیا۔