نئی دہلی، 29/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)بہار میں ووٹروں کی تصدیق کے نام پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ذریعہ خصوصی مہم کے اعلان پر اپوزیشن پارٹیاں سخت برہم ہو گئی ہیں۔ بہار میں مہاگٹھ بندھن کی پارٹیوں کے ذریعہ سخت برہمی کے اظہار کے بعد مغربی بنگال میں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے بھی اس پرسخت تنقید کرتے ہوئے اسے چور دروازے سے این آر سی کے نفاذ کی کوشش قرار دیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن کی اس مہم کا نازی جرمنی کی پالیسی سے بھی موازنہ کیا۔
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن نے نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےالیکشن کمیشن پر شدید تنقیدیں کیں۔ انہوںنے کہاکہ یہ چور دروازے سے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز(این آر سی) کو متعارف کرانے کی کوشش ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ نازی جرمنی میں ۱۹۳۵ء میں بھی اسی طرح کیا گیا تھا جب شہریوں سےان کے آباء و اجداد کے کاغذات طلب کئے گئے تھے۔ انہوںنے خبردا رکیا کہ الیکشن کمیشن خود کو بی جے پی کی برانچ میں تبدیل نہ کرے۔ اس پریس کانفرنس میں پارٹی لیڈران سگاریکا گھوش اور ساکیت گوکھلے بھی موجود تھے۔
ترنمول لیڈر اوبرائن نے کہاکہ بی جے پی کے اندرونی سروے کے مطابق وہ مغربی بنگال میںانتہائی خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے جارہی ہے۔ ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ تازہ ترین داخلی سروے میں مغربی بنگال میں بی جے پی کو محض۴۶؍سے ۴۹؍سیٹیں ملیںگی ۔ مایوسی میں بی جے پی اس طرح کی حرکتیں کروارہی ہے ۔ اوبرائن نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی ووٹرز کی تصدیق کیلئے خصوصی مہم جو کو اسپیشل انٹینسیوووٹر لسٹ رویژن (ایس آئی آر) کے طورپرمشہور ہے، اس میں ووٹرس سے ان کی پیدائش کے سال کے حساب سے ضرورت سے زائد دستاویزی ثبوت کو لازمی قراردیا گیاہے۔ اس کے مطابق جولائی ۱۹۸۷ء سے پہلے پیدا ہونے والوں کو پیدائش اور جائے پیدائش کا ثبوت دکھانا ہوگا۔۱۹۸۷ء سے ۲۰۰۴ء کے درمیان پیدا ہونے والوں کو والدین میں سےکسی ایک کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ دسمبر ۲۰۰۴ءکے بعد پیدا ہونے والے کسی بھی شخص کو اپنے اور والدین کے دستاویز پیش کرنے ہونگے۔ ڈیرک اوبرائن نے متنبہ کیاکہ اگر اس کی تعمیل نہیں کی گئی تو فہرست سے نام ہٹایا جاسکتا ہے۔
ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی الیکشن کمیشن کے اس عمل کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے اسے چوری چھپے بہار میں این آر سی لاگو کرنے کی کوشش قرار دیا جس کی ہم انتہائی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ انہوںنے اس کے خلاف الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا ہے۔اویسی نے کمیشن کو لکھاکہ اس نے ووٹرس لسٹ میں نام شامل کرنے کیلئے جن ۱۱؍دستاویزات کی لسٹ دی ہے،اس کے بارے میں اس نے کوئی دلیل نہیں دی کہ آخر ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟ اویسی نے مزیدکہا کہ اس سے ہزاروں غریب ووٹر حق رائے دہی سے محروم ہوسکتےہیں۔
اس معاملے میں کانگریس پارٹی گزشتہ ۲؍ روز سے مسلسل احتجاج کررہی ہے۔ پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا اور جے رام رمیش اس پر بیان دے چکے ہیں کہ کیسے مرکزی حکومت چور دروازہ سے این آر سی نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی بہار کے حقیقی ووٹرس کے نام فہرست سے نکالنے کی سازش بھی کر رہی ہے تاکہ الیکشن ان حربوں کے ذریعے جیتا جاسکے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خصوصی مہم فوری طور پر بند کرے۔