ممبئی ، 27/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)مہاراشٹر میں ٹیچر اہلیتی ٹیسٹ (MAHA TET) کا سوالیہ پرچہ امتحان سے صرف چوبیس گھنٹے قبل مبینہ طور پر لیک ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے امتحان ملتوی کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب تھانے ضلع کے بھیونڈی علاقے میں پولیس کو چھاپے کے دوران ایسا مواد ملا جو اصل سوالیہ پرچے سے مطابقت رکھتا تھا۔ ابتدائی تصدیق کے بعد مہاراشٹر اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشن (MSCE) نے امتحان کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر امتحان ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ نئی تاریخ بعد میں جاری کی جائے گی اور امیدواروں کو دوبارہ ایڈمٹ کارڈ بھی ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگا۔
تعلیمی حکام نے فوری طور پر ایک ہنگامی تحقیقات کا آغاز کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ غیر مجاز افراد حساس امتحانی دستاویزات تک کیسے پہنچے اور سوالیہ پرچہ کس طرح گردش میں آیا۔ پولیس اب اس لیک کی ڈجیٹل اور آف لائن دونوں سطحوں پر چھان بین کر رہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ منظم نیٹ ورک کی کارروائی تھی یا محدود سطح پر معلومات افشا کی گئیں۔ سیکوریٹی کی یہ سنگین ناکامی ریاست بھر میں ان لاکھوں امیدواروں کو براہ راست متاثر کرتی ہے جنہوں نے مہینوں تک اس اہم امتحان کی تیاری کی تھی۔ متعدد امیدوار امتحانی مراکز تک پہنچنے کی تیاری مکمل کر چکے تھے، تاہم آخری لمحے پر امتحان ملتوی ہونے سے انہیں شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
حکام کے مطابق نئی امتحانی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ امتحان کا نصاب یا پیٹرن تبدیل کرنے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم تمام امیدواروں کو تازہ ایڈمٹ کارڈ جاری کیے جائیں گے۔ اگر کسی قسم کی فیس ریفنڈ یا دیگر انتظامی ہدایات جاری کی جاتی ہیں تو ان سے بھی امیدواروں کو سرکاری ذرائع کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔
یہ واقعہ حالیہ برسوں میں قومی سطح پر سامنے آنے والے متعدد امتحانی تنازعات کی یاد دلاتا ہے۔ بالخصوص UGC-NET اور NEET-UG سے متعلق پرچہ لیک کے معاملات نے پہلے ہی امتحانی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا تھا، جبکہ اب مہاراشٹر ٹی ای ٹی کا معاملہ ریاستی سطح کے امتحانات کی سیکوریٹی پر بھی نئے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ تفتیشی ادارے اب اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ سوالیہ پرچہ کتنے افراد تک پہنچا، اسے کن ذرائع سے تقسیم کیا گیا اور آیا امتحان سے پہلے اس کے بدلے مالی لین دین بھی ہوا یا نہیں۔ اگرچہ حکام نے اس مرحلے پر تحقیقات کی تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔
اس سے قبل امتحان کے انعقاد سے پہلے منتظمین نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا تھا کہ آیا امتحان مقررہ وقت پر ہوگا یا نہیں، جبکہ امیدواروں سے کہا گیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری پورٹلز پر جاری ہونے والی معلومات پر انحصار کریں۔ بعد ازاں، سوالیہ پرچے کی ابتدائی تصدیق کے بعد امتحان ملتوی کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا گیا۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل سامنے آنے والے ایسے واقعات امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں اور ضروری ہے کہ سوالیہ پرچوں کی تیاری، طباعت، نقل و حمل اور تقسیم کے پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔