بھٹکل ،27/ جون (ایس او نیوز) نقلی دستاویزات تیار کرکے سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے کا ایک جال سامنے آیا ہے جس میں تحصیلدار دفتر کے بعض اہلکاروں کا ہاتھ ہونے کے تعلق سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے کے لئے چالیس سے پچاس سال پرانے لینڈ ریفارمس ایکٹ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کی بنیاد پر نئے درخواست گزاروں کے نام پر پرانے دستاویزات میں رد و بدل کرکے بھٹکل لینڈ ٹریبیونل کا نقلی حکم نامہ تیار کیا جاتا ہے ۔
اس طرح فارم نمبر 10 (پٹّہ) رجسٹریشن کے ذریعے دستی تحریر والے زمین کے ریکارڈ تیار کرکے زمین کی منظوری دینے کی کوشش کا بھانڈا اس وقت پھوٹ گیا جب بھٹکل کے ایلوڈی کوور اور شہری حدود کے دو معاملے ریوینیو ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر کے سامنے آئے ۔
کہتے ہیں کہ چور کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو، اپنے پیچھے کہیں نہ کہیں کوئی سراغ ضرور چھوڑتا ہے ۔ ایسا ہی معاملہ موجودہ گھپلے کے سلسلے میں ہوا ہے ۔ تمام دستاویزات نقلی طور پر تیار کرنے کے ساتھ جعل سازوں سے یہ بھول ہوگئی کہ انہوں نے لینڈ ٹریبیونل کے نام نہاد حکم نامے کی کاپی تاریخ کے ساتھ کمپیوٹر کے ذریعے کنڑا زبان کے'نوڈی فونٹ' میں ٹائپ کرکے منسلک کر دی، اور یہی بھول دستاویزات کے تعلق سے شکوک کا سبب بن گئی کیونکہ جس زمانے میں لینڈ ٹریبیونل کے تحت فیصلے ہو رہے تھے اور جس تاریخ کو مبینہ فیصلے کی کاپی ٹائپ کی گئی ہے اُس وقت کمپیوٹر کے لئے 'نوڈی کنڑا' فونٹس جاری ہی نہیں ہوئے تھے ۔
اس کے علاوہ لینڈ ٹریبیونل کے حکم نامے میں اُس وقت کے اسپیشل اسسٹنٹ کمشنر یو کورگا نائیک کے علاوہ ٹریبیونل کے اراکین ایس جی کنٹیوانی، ایم ایس نائک، رگھو منجو ہوناورکر، سیف اللہ محمد میراں کے جعلی دستخط کیے گئے ہیں ۔ اور زمین کی منظوری کے لئے درخواست جمع کی گئی ہے ۔
سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح نقلی دستاویزات کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر سرکاری زمین ہتھیانے کے معاملوں میں تحصیلدار دفتر کا عملہ اور کچھ افسران پوری طرح شامل ہیں ۔
آڈلت سودھا کے کوریڈور میں سنائی دے رہی ہیں سرگوشیوں کے مطابق جب غیر قانوی طریقے سے زمین منظوری کے لئے درخواست اور دستاویزات حال ہی میں تبادلہ ہو کر ریوینیو ڈپارٹمنٹ میں آئے ہوئے ایک سینئر افسر کے سامنے آئے تو انہوں نے اس میں پائے جانے والے نقائص اور فرق دیکھنے کے بعد اس پر اپنے دستخط ثبت نہ کرتے ہوئے فائل کو روک لیا ہے ۔ خبر یہ بھی ہے کہ چونکہ جعلی دستاویزات تیار کرنے والوں اپنی بھول سدھارنے کا موقع نہیں ہے اس لئے دستاویزات کی خامیوں پر گرفت کرنے والے متعلقہ افسر کا منھ بند کرنے کی کوشش چل رہی ہے ۔