منگلورو 20 / جولائی (ایس او نیوز) آن لائن فراڈ کرنے والے دھوکے باز آئے دن نت نئے طریقے اپنا کر لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں ۔ اسی سلسلے میں کی ایک کڑی ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ ادا کرنے کے لئے چالان بھیجنا ہے ۔
شہر کی ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کر رہے راہل پائی کا کہنا ہے کہ اس کے فون پر ٹریفک پولیس کے نام سے کا ایک چالان موصول ہوا جس پر باضابطہ چالان نمبر درج ہونے کے علاوہ اس کی گاڑی کا نمبر درج تھا اور اسے ٹریفک سگنل جمپ کرنے کی پاداش میں 1000 جرمانہ بھرنے کے لئے کہا گیا تھا ۔
راہل نے بتایا کہ اس چالان پر اسے کچھ شک ہوا کیونکہ اس نے چالان پر درج متعلقہ تاریخ کو کہیں بھی سگنل کا قانون نہیں توڑا تھا، اس لئے اس نے فوری طور پر ٹریفک پولیس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایک جعلی میسیج تھا جس کے ذریعے اس کے ساتھ آن لائن فراڈ کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔
راہل پائی کے مطابق اسے جو میسیج موصول ہوا تھا اس میں اے پی کے فائل کی لنک دی گئی تھی جو کہ آن لائن فریب کاروں کی طرف سے ڈاٹا حاصل کرنے کے لئے بھیجی جاتی ہے ۔ اس نے چونکہ اس لنک کی گئی فائل پر کلک نہیں کیا تھا اس لئے آن لائن فراڈ کا شکار ہونے سے وہ بال بال بچ گیا ۔
سائبر سیکیوریٹی کے ماہر منگلورو کے ڈاکٹر اننت پربھو نے عوام کو چوکنا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاٹس ایپ، ٹیلی گرام یا ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجے گئے اے پی کے فائلس کو انسٹال نہیں کرنا چاہیے اور ٹریفک چالان اور بینک اپڈیٹ جیسے میسیجس پر بالکل بھروسہ نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ اکثر ایسے نقلی میسجس بالکل اصلی جیسے نظر آتے ہیں اور وہ دھوکے بازوں کی طرف سے آپ کے فون سے حساس ڈاٹا حاصل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔