نئی دہلی ، 28 جون (ایس او نیوز/ایجنسی) کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے ہفتہ کے روز ایک ویڈیو پوسٹ کے ذریعے مرکز کی نریندر مودی حکومت پر شدید اقتصادی تنقید کی۔ انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ بچت بند ہو چکی ہے، گھریلو اخراجات بے قابو ہو چکے ہیں اور یہ سب کچھ حکومت کے دعووں والے ’امرت کال‘ کا اصل نتیجہ ہے۔
کھرگے نے جو ویڈیو شیئر کی، اس میں مختلف گرافکس اور سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک میں سیونگ اکاؤنٹس پر سود کی شرح گزشتہ پچیس برسوں میں سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح گھریلو بچت کی شرح، جو کسی بھی معیشت میں متوسط طبقے کی معاشی صحت کا پیمانہ سمجھی جاتی ہے، پچھلے تین سال سے مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور اب گزشتہ پچاس برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ نجی سرمایہ کاری اور گھریلو کھپت میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھنے کو ملی ہے، جو براہ راست اس بات کی علامت ہے کہ عام شہریوں کی مالی حالت دگرگوں ہے۔جیلوں میں ڈرگس نیٹ ورک اور بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے بھی قدم اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ریاست کو نشہ سے پاک بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
کھرگے نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے عوام کی جیب کاٹنے کا جیسے کوئی باقاعدہ ٹھیکہ لے رکھا ہے، اور ہر وہ پالیسی اختیار کی جا رہی ہے جس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقات پر مزید بوجھ پڑے۔ اپنی پوسٹ کے ساتھ کھڑگے نے طنزیہ شاعرانہ لہجے میں یہ بھی لکھا، ’’بچت بند، گھریلو خرچوں پر لگام، یہ ہے ’امرت کال‘ کا انجام!!‘‘
یہ ویڈیو ایک ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب حکومت بار بار ’امرت کال‘ کا ذکر کر کے اسے ہندوستان کی ترقی کا سنہرا دور قرار دے رہی ہے۔ تاہم کھرگے اور ان کی پارٹی کانگریس کا دعویٰ ہے کہ یہ دراصل عام آدمی کی پریشانیوں کا دور ہے، جہاں مہنگائی، کمزور بچت، کم شرح سود اور بڑھتے ہوئے روزمرہ اخراجات نے شہریوں کی مالی حالت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ویڈیو میں بعض اقتصادی ماہرین کے بیانات، ماضی کے ڈیٹا اور موجودہ پالیسیوں کا تقابل بھی شامل ہے، جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ حکومت کی پالیسیاں بڑے صنعتکاروں کے لیے تو سازگار ہو سکتی ہیں، لیکن عام آدمی کے لیے یہ نہ صرف غیر سودمند ہیں بلکہ نقصان دہ بھی ثابت ہو رہی ہیں۔
کھرگے نے آخر میں اشارہ دیا کہ جب عوام کی مالی حالت بد سے بدتر ہو جائے، تو وہ کسی بھی بڑے ترقیاتی دعوے کو سننے کے بجائے اپنے ہاتھ میں بچا کھچا پیسہ دیکھتے ہیں اور وہاں انہیں ’امرت‘ کے بجائے کڑوا سچ نظر آتا ہے۔