ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / کویت میں 26 ہزار خواتین کی شہریت منسوخ، صرف خونی رشتہ تسلیم کیا جائے گا

کویت میں 26 ہزار خواتین کی شہریت منسوخ، صرف خونی رشتہ تسلیم کیا جائے گا

Mon, 26 May 2025 11:39:49    S O News

کویت سٹی، 26/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) کویت میں حکومت کے ایک اچانک اور سخت فیصلے نے ہزاروں لوگوں کی زندگی یکسر بدل کر رکھ دی ہے۔ جن شہریوں نے معمول کے مطابق اپنی صبح کا آغاز کیا، انہیں اس وقت شدید دھچکا لگا جب پتا چلا کہ ان کے سرکاری دستاویزات، بینک اکاؤنٹس اور دیگر بنیادی سہولتیں بند ہو چکی ہیں۔ تحقیقات پر انکشاف ہوا کہ ان کی شہریت ہی منسوخ کر دی گئی ہے۔ متاثرین میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مئی 2024 میں کویت کے امیر نے عوامی نظام حکومت یعنی جمہوریت کو ملک کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے آئین میں ترمیم کی بات کہی تھی۔ حکومت کا یہ قدم سیاسی و سماجی سطح پر شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

کویت حکومت ان لوگوں کی شہریت زیادہ منسوخ کر رہی ہے جنہیں شادی کے بعد یہاں کی شہریت ملی تھی۔ اس فہرست میں خواتین زیادہ شامل ہیں۔ جنہوں نے کویت کے مردوں سے شادی کرکے یہاں کی شہریت حاصل کی تھی۔

اسی کڑی میں ایک نام لاما کا ہے۔ جب وہ کویت سٹی میں کریڈٹ کارڈ سے پمنٹ کرنے لگیں تو پتہ چلا کہ ان کا کھاتہ منجمد کر دیا گیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان کی شہریت ہی منسوخ ہو چکی ہے۔ لاما بنیادی طور پر جارڈن کی رہنے والی ہیں۔ لاما ان 37 ہزار لوگوں میں شامل ہیں جن کی گزشتہ سال اگست کے بعد سے شہریت جا چکی ہے۔ ان میں 26 ہزار خواتین شامل ہیں۔ یہ کویت کی حکومت کا ڈاٹا ہے۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اور بھی زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ شیخ مشعل الاحمد دسمبر 2023 میں کویت کے امیر بنے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا اور آئین کے کچھ حصوں کو بھی معطل کر دیا۔ اب امیر کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو ہی کویت کا شہری مانا جائے گا جن کا یہاں کے لوگوں کے ساتھ خون کا رشتہ ہے۔ امیر نے اپنے ایک خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ کویت میں رہنے والے تقریباً 50 لاکھ لوگوں میں صرف ایک تہائی ہی اصلی کویتی ہیں۔ امیر نے کہا کہ اب یہاں صرف اصل کویتی ہی رہیں گے۔

ویسے کویت میں پہلے سے بھی ایسے تمام لوگ رہ رہے ہیں جن کے پاس یہاں کی شہریت نہیں ہے۔ 1961 میں برطانوی قبضے سے آزاد ہونے کے بعد تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو شہریت نہیں مل پائی تھی۔ وہیں جن لوگوں کے پاس کویت کی شہریت نہیں ہوگی ان کو بینکنگ، تعلیم، سرکاری نوکری اور دیگر سہولتیں بھی نہیں مل پائیں گی۔ کویت میں 1987 کے بعد سے جن لوگوں کو شادی کی بنیاد پر شہریت ملی ہے، حکومت ان پر کارروائی کر رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1992 سے 2020 تک 38505 خواتین کو شادی کی بنیاد پر یہاں کی شہریت دی گئی تھی۔


Share: