ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کیرالہ : قبائلی نوجوان کے خلاف جنگلی جانور کے گوشت کا جھوٹا معاملہ - پولیس نے داخل کی محکمہ جنگلات کے افسران کے خلاف چارج شیٹ

کیرالہ : قبائلی نوجوان کے خلاف جنگلی جانور کے گوشت کا جھوٹا معاملہ - پولیس نے داخل کی محکمہ جنگلات کے افسران کے خلاف چارج شیٹ

Fri, 04 Jul 2025 20:04:58    S O News
کیرالہ : قبائلی نوجوان کے خلاف جنگلی جانور کے گوشت کا جھوٹا معاملہ -  پولیس نے داخل کی محکمہ جنگلات کے افسران کے خلاف چارج شیٹ

کالیکٹ 4 / جولائی (ایس او نیوز) کیرالہ کے تھوڈوپوزا میں پالتو مویشی کے گوشت کو جنگلی جانور کا گوشت بتاتے ہوئے ایک قبائلی نوجوان کو جھوٹے الزام میں پھنسانے والے محکمہ جنگلات کے افسران کے خلاف پولیس نے پرنسپال سیشنس کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی ہے ۔

    موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ چارج شیٹ محکمہ جنگلات سے تعلق رکھنے والے ایڈوکی وائلڈ لائف وارڈن بی راہل سمیت جملہ 13 افراد کے خلاف پیروموڈے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی طرف سے عدالت میں داخل کی گئی       ہے ۔ اس معاملے میں انڈین  پینل کوڈ اور ایس سی/ ایس ٹی قانون کی مختلف دفعات کے تحت محکمہ جنگلات کیزوکانم سیکشن کے سابق فاریسٹ آفیسر ٹی انیل کمار کو ملزم نمبر ۱ اور وارڈن راہل کو گیارھواں ملزم بنایا گیا ہے ۔ اس معاملے کی تفتیش کے عرصے میں ملزم نمبر ۹ فاریسٹ واچر بھاسکرن کی موت واقع ہو چکی ہے ۔

    اس کیس کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ 20 ستمبر 2022 کو مولّا کا رہنے والا سرن ساجی نامی ایک قبائلی نوجوان کو جنگلی جانور کا گوشت فروخت کرنے کی کوشش کے الزام میں کیزو کانم فاریسٹ آفس کے قریب گرفتار کیا گیا تھا ۔  محکمہ جنگلات کے افسران کہنا تھا کہ انہوں نے فاریسٹ چیک پوسٹ کے پاس پارک کیے گئے  سرن ساجی کے آٹو رکشہ سے جنگلی جانور کا گوشت ضبط کیا ہے ۔ گرفتاری کے بعد قبائلی نوجوان کو عدالتی میں بھیج دیا گیا اور وہ دس دن تک جیل میں بند رہا ۔

    قبائلی نوجوان کی گرفتاری کے بعد اس کے گھر والے اور کیرالہ اولڈا مہا سبھا [کے یو ایم ایس] نے محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران کے پاس شکایت درج کروائی جس کے بعد چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ [ ویجیلنس] نیتو لکشمی کی تحقیقاتی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ فاریسٹ آفیسر ٹی انیل کمار نے مکاری کے ساتھ قبائلی نوجوان کو پھنسانے کے لئے اس کے آٹو رکشہ میں پالتو مویشی کا گوشت رکھا تھا اور اسے جنگلی جانور کا گوشت بتاتے ہوئے کارروائی کی تھی ۔ 

    ریاستی ایس سی / ایس ٹی کمیشن کی ہدایت پر اوپوتھرا پولیس نے محکمہ جنگلات کے مسٹر راہل اور دیگر ۱۲ افسران کے خلاف کیس رجسٹر کیا تھا ۔ اب جبکہ اس معاملے میں پولیس نے 470 صفحات پر مبنی چارج شیٹ عدالت میں داخل کی ہے تو متاثرہ قبائلی نوجوان سرن ساجی نے کہا کہ اسے امید ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہوگا اور ملزمین کو سزا ملے گی ۔ 

    کے یو ایم ایس کے نائب صدر این آر موہنن نے کہا : "عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ قبائلیوں پر جھوٹا کیس دائر کرنے والوں کے لئے ایک سخت وارننگ ہے ۔ محکمہ جنگلات کی طرف سے ملزمین کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔"
 


Share: