
کوچی 10 / جولائی (ایس او نیوز) یمن میں سزائے موت کا سامنا کر رہی کیرالہ سے تعلق رکھنے والی نیمیشا پریا نامی نرس کے تعلق سے مذاکرات میں شامل ایک اہم شخص سیموئیل جیروم بھاسکرن نے بتایا کہ اس کی جان بچانے کی کوشش جاری ہے اور "حالانکہ بہت کم وقت بچا ہے مگر مجھے اب بھی امید ہے کہ نیمیشا پریا کی سزائے موت پر عمل در آمد رک سکتا ہے"
نیمیشا کی جان بچانے کے لئے سرگرم 'سیو نیمیشا انٹرنیشل کونسل' کے رکن سیموئیل جیروم نے بتایا کہ "نیمیشا اس وقت یمن میں صناء کی جیل میں قید ہے ۔ دو دن قبل مجھے صناء سینٹرل جیل کے چیرمین کی طرف سے میسیج موصول ہوا ہے کہ نیمیشا کو سزائے موت دینے کے لئے 16 جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے ۔"
سیموئیل نے بتایا کہ اس نے ریاض میں موجود ہندوستانی سفارت خانے کو اس بات کی اطلاع دی ہے ۔ ان لوگوں نے صناء میں واقع ہندوستانی مشن کے اسٹاف سے رابطہ کیا ہے ۔ 1999 سے یمن میں سکونت پزیر سیموئیل بھاسکرن نیمیشا کی جان بچانے کے لئے سرگرم ہے ، جبکہ نیمیشا کی ماں پریما کماری اپنی بیٹی کی سزا معاف کروانے کے لئے اپریل 2024 میں صناء پہنچی تھی اور تب سے وہ بھاسکرن کے ساتھ وہیں پر مقیم ہے ۔ بھاسکرن کے مطابق پریما کماری نے دو ہفتے پہلے جیل کے اندر اپنی بیٹی سے ملاقات کی تھی ۔
یاد رہے کہ نیمیشا کیرالہ کی رہنے والی ایک نرس ہے جو سال 2017 سے ایک یمنی شہری طلال عبدو مہدی کو قتل کرنے کے جرم میں صناء کی سینٹرل جیل میں قید ہے ۔
سیموئیل بھاسکرن نے بتایا کہ سزائے موت پر عمل کا حکم مقتول کے گھر والوں کے خیالات جانے بغیر جاری نہیں ہوا ہوگا ۔ " لیکن میں پُر امید ہوں ۔ اب میں علاقے کے کچھ با اثر افراد کے توسط سے مقتول کے گھر والوں سے ملنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ ان لوگوں سے براہ راست بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے، حالانکہ میں نے اس سے پہلے مقتول کے والد اور بھائی سے بات کر چکا ہوں ۔"