ترواننت پورم، 6 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) کیرالہ ہائی کورٹ نے بدھ کو ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اگر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) یا اس کے ایجنٹس عوام کو بغیر رکاوٹ، محفوظ اور منظم طریقے سے قومی شاہراہوں تک رسائی فراہم کرنے میں ناکام رہیں، تو وہ ایسی سڑکوں پر ٹول یا صارف فیس وصول کرنے کے حقدار نہیں۔
جسٹس اے محمد مستعق اور جسٹس ہری شنکر وی مینن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے نیشنل ہائی وے 544 کے ایڈاپلی-مانوتھی سیکشن پر ٹول کی وصولی کو چار ہفتوں کے لیے معطل کرتے ہوئے یہ عبوری حکم جاری کیا۔ عدالت نے مرکز کو ہدایت دی کہ وہ اس دوران عوام کے خدشات اور شکایات کا مناسب حل تلاش کرے۔
یہ فیصلہ کئی درخواستوں کی سماعت کے دوران سامنے آیا، جن میں کہا گیا تھا کہ زیر تعمیر انڈرپاس، فلائی اوور اور آب نکاسی کے ناقص انتظامات کے باعث شدید ٹریفک جام ہے، جبکہ سروس روڈز کی حالت بھی خراب ہے، اس کے باوجود عوام سے ٹول فیس وصول کی جا رہی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ شہری قومی شاہراہوں کے استعمال کے بدلے فیس دینے کے پابند ہیں، لیکن یہ تب ہی درست ہے جب آمد و رفت میں روانی، سلامتی اور سہولت کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اس کیس میں NHAI نے عوامی مفاد کو نظرانداز کیا اور شکایات کو نظرانداز کیا، جو قابلِ مذمت ہے۔