بنگلورو 20/ستمبر (ایس او نیوز): کرناٹک میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران 43 لاکھ سے زائد ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے کے معاملے پر اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج نے انتخابی عمل پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے SIR کو ’’سازش‘‘ اور ’’دھوکہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹروں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے اور اعتراضات داخل کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔
ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے مطابق 10 ستمبر تک ریاست میں مجموعی طور پر 43,81,760 نوٹس تیار کیے گئے تھے، جن میں سے 24,97,075 نوٹس متعلقہ ووٹروں تک پہنچائے جاچکے تھے، جبکہ 18,84,685 نوٹس باقی تھے۔ جاری کیے گئے نوٹس میں 7,03,710 معاملات کی سماعت مکمل ہوچکی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 23.28 لاکھ نوٹس ایسے ووٹروں کو دیے گئے جن کا سابقہ SIR کے ریکارڈ سے ’میپنگ‘ نہیں ہوپائی تھی۔ دیگر بڑی وجوہات میں نام میں تضاد، والدین کے نام یا عمر سے متعلق فرق اور خاندانی تفصیلات میں عدم مطابقت شامل ہیں۔
پرکاش راج نے 12 ستمبر کو SIR کے ڈرافٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ووٹروں کو محض ایک یا دو دن پہلے نوٹس دینے کے بجائے چھ ماہ کا وقت دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق نوٹس میں دو دستاویزات طلب کی جاتی ہیں، لیکن دفتر پہنچنے پر بعض لوگوں سے مزید کئی دستاویزات مانگی جارہی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر کسی ووٹر کو ’Shifted‘ یا دیگر زمروں میں نشان زد کیا گیا ہے تو اسے اپنی حیثیت واضح کرنے کا مناسب موقع کیوں نہیں دیا جارہا۔ پرکاش راج نے کہا کہ 20 اگست کو ہر بوتھ پر حذف یا نشان زد کیے گئے ووٹروں کی فہرست لگانے اور گرام پنچایت سطح پر اجلاس منعقد کرنے کی بات کہی گئی تھی، لیکن ان کے دعوے کے مطابق ایسے اجلاس مؤثر طور پر منعقد نہیں ہوئے۔
پرکاش راج نے اعلان کیا کہ 20 سے 30 ستمبر کے درمیان کرناٹک کے 10 اضلاع کا دورہ کرکے مختلف پولنگ بوتھوں پر SIR کا ’سوشل آڈٹ‘ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق سول سوسائٹی سے وابستہ افراد متاثرہ ووٹروں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل اور دستاویزات کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یکم یا 2 اکتوبر کو دہلی میں اس سلسلے میں ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا اور 15 اکتوبر تک جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر عدالت سے رجوع کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس سے قبل یکم ستمبر کو پرکاش راج اور دیگر کارکنوں نے بنگلورو میں ’الیکشن کمیشن چلو‘ احتجاج میں بھی حصہ لیا تھا، جہاں SIR کے تحت ووٹروں کے ناموں کو ’Absent, Shifted, Dead, Duplicate and Others‘ جیسے زمروں میں ڈالنے اور نام حذف ہونے کے خدشات پر اعتراض کیا گیا۔ احتجاج کے دوران پرکاش راج سمیت متعدد کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لیا تھا۔
پرکاش راج نے 43 لاکھ ووٹروں کو دیے گئے نوٹس کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے، حذف کیے گئے ناموں کے لیے اپیل کا موقع دینے، گرام اور وارڈ سبھاؤں کو مؤثر بنانے اور اعتراضات و اپیل کے لیے چھ ماہ کی مہلت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
البتہ انتخابی حکام کی جانب سے پرکاش راج کے اپنے ووٹر ریکارڈ کے بارے میں وضاحت بھی سامنے آچکی ہے۔ حکام کے مطابق ان کا نام ووٹر فہرست سے حذف نہیں کیا گیا تھا بلکہ انہیں ’Shifted‘ کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا، کیونکہ تصدیق کے دوران وہ رجسٹرڈ پتے پر مقیم نہیں پائے گئے۔
کرناٹک میں SIR کے معاملے پر سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور انتخابی حکام کے درمیان اختلافات کے درمیان حتمی ووٹر فہرست جاری ہونے تک نوٹس، دستاویزات کی جانچ اور اعتراضات کا عمل جاری ہے۔