ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی ایس آئی آر: کپل سبل کو نوٹس پر اعتراض، الیکشن کمیشن سے جواب طلب

دہلی ایس آئی آر: کپل سبل کو نوٹس پر اعتراض، الیکشن کمیشن سے جواب طلب

Sun, 20 Sep 2026 19:36:23    S O News

نئی دہلی ، 20 /ستمبر(ایس او نیوز/ایجنسی)راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے دہلی میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر الیکشن کمیشن پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ سبل نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا نام لیتے ہوئے کہا کہ جب ان کے پرانے ووٹر ریکارڈ کا ملان ہو چکا ہے، بی ایل او ان کے دستاویزات اور فارم پر دستخط کر چکا ہے اور ان کا نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں بھی موجود ہے، تو انہیں ’اَن میپڈ ود لاسٹ ایس آئی آر‘ زمرے میں نوٹس کیوں بھیجا گیا؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب وہ شہری نہیں ہیں؟

سینئر وکیل نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انہیں اس نوٹس کی اطلاع خود الیکشن کمیشن سے نہیں بلکہ ایک فون کال کے ذریعے ملی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے یہاں بھی نوٹس کی کوئی فزیکل کاپی نہیں پہنچی ہے۔ سبل کے مطابق ویب سائٹ پر نوٹس کی معلومات دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنے دفتر سے اس کی تصدیق کرائی، لیکن وہاں بھی نوٹس نہیں ملا۔

پریس کانفرنس میں سبل سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نوٹس کے خلاف عدالت جائیں گے؟ اس پر انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ سپریم کورٹ نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب ملان ہو چکا ہے تو میں عدالت کیوں جاؤں گا؟ نام کاٹنے دو ان کو۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ووٹ کو غلط طریقے سے کاٹے جانے کی شکایت لے کر سپریم کورٹ میں درخواست گزار بن کر نہیں جائیں گے۔ ملک کو یہ دیکھنا چاہیے کہ آخر اس عمل میں کیا ہو رہا ہے۔

کپل سبل نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید اعداد و شمار جمع کریں گے اور انہیں عوام کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ووٹر لسٹ تیار کرنے کے عمل میں کس طرح کی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ پورا عمل 2029 کے انتخابات کی تیاری سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سبل نے آخر میں کہا کہ وہ آئندہ بھی اس معاملے پر بات کریں گے اور مزید اعداد و شمار کے ساتھ سامنے آئیں گے۔

راجیہ سبھا رکن نے یہ بھی کہا کہ اگر میرے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے، جن کے پاس پرانے ریکارڈ موجود ہیں، تو عام ووٹر کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ اگر میرے ساتھ ایسا ہو رہا ہے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ کتنے لوگوں کے ووٹ اس طرح کاٹے جائیں گے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ ان کے دستاویزات اور بی ایل او کے دستخط ہونے کے باوجود انہیں نوٹس کیوں بھیجا گیا۔ سبل کے مطابق ان کا موبائل نمبر الیکشن کمیشن کے پاس لنک ہے۔ اس کے باوجود انہیں کوئی فون نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن یہ دکھانا چاہتا ہے کہ بڑے بڑے لوگوں کو بھی نوٹس دیا گیا ہے اور کسی کے ساتھ جانبداری نہیں ہو رہی ہے۔


Share: