بھٹکل 16 ستمبر (ایس او نیوز): بھٹکل میں گنیش مورتی وسرجن کے لیے نکالے گئے جلوس کے دوران گلمی میں ریلوے اسٹیشن کی جانب جانے والی سڑک پر واقع مسجدِ اسماعیل پر مبینہ پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر اضافی فورس تعینات کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا۔ پولیس نے پتھراؤ کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بدھ کی رات تقریباً 10 بجے تلاند سے گنیش مورتی کا جلوس وسرجن کے لیے روانہ ہوا تھا اور ریلوے اسٹیشن کی جانب جانے والی سڑک سے گزرتے ہوئے وہاں موجود ایک نہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اسی دوران راستے میں واقع مسجدِ اسماعیل پر بعض شرپسند عناصر کی جانب سے مبینہ طور پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مسجد کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی اضافی فورس موقع پر پہنچ گئی اورحالات کو قابو میں لے لیا۔ مسجد کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ پتھراؤ کے نتیجے میں مسجد کی متعدد کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ ان کے مطابق پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ بعض افراد کو پوچھ گچھ کے لیے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پولیس کے پاس پتھراؤ سے متعلق ویڈیو موجود ہے۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں لوگ بھٹکل ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوگئے اور پتھراؤ میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی طرح کی اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کی اپیل کی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر کاروار سے ضلع سپرنٹینڈنٹ آف پولیس دیپن ایم این بھی بھٹکل پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شرپسند عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس موقع پر بھٹکل اے ایس پی اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران بھی موجود تھے۔
پولیس نے صورتحال پر قابو پالیا ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے مسجد کے اطراف اور دیگر حساس مقامات پر اضافی پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔