بھٹکل 19/ستمبر (ایس او نیوز): ہندو تہواروں، بالخصوص گنپتی حبّا، ماری حبّا اور تیر حبّا کے دوران بھٹکل میں عموماً خواتین اپنے بچوں کے ساتھ گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہوکر اپنے مکان کے سامنے سے گزرنے والے جلوسوں کا نظارہ کرتی ہیں، جبکہ مسلم مرد سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر تہوار کے ذمہ داران کا استقبال کرتے ہوئے انہیں پھول پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم، حالیہ گنیش وسرجن جلوس کے دوران پیش آنے والے ایک معاملے کے بعد شہر میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا آئندہ محض جلوس دیکھنے کے لئے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہونا بھی بچوں اور ان کے والدین کے لئے قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے؟
یہ سوال اس وقت مزید اہم ہوگیا جب گنیش وسرجن جلوس کے دوران گھروں کی چھت پر موجود بچوں کے خلاف پولیس میں شکایت درج ہونے کے بعد پولیس نے چھ بچوں کو تھانے طلب کیا اور ان کے خلاف جیونائل جسٹس ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کی۔ جمعہ کو بچوں کے والدین کو فون کرکے اپنے بچوں کو پولیس تھانے لانے کے لئے کہا گیا، جس کے بعد والدین میں تشویش اور خوف کی کیفیت پیدا ہوگئی۔

والدین کے مطابق، جب وہ بچوں کو پولیس تھانے لے کر پہنچے تو انہیں براہِ راست سرکاری اسپتال لے جایا گیا، جہاں بچوں کا میڈیکل معائنہ کیا گیا۔ والدین کا مزید کہنا ہے کہ اس کے بعد بچوں کو کاروار لے جانے کی تیاری کی جارہی تھی۔ اس اطلاع کے پھیلتے ہی علاقے کے ذمہ داران پولیس تھانے پہنچے اور اعلیٰ پولیس حکام سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر بچوں کو کاروار لے جایا گیا تو بڑی تعداد میں لوگ پولیس تھانے پہنچ کر احتجاج کریں گے۔
علاقے کے ذمہ داران کے مطابق، ان کی مداخلت کے بعد چند گھنٹوں میں بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کردیا گیا اور انہیں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ گنیش تہوار کے اختتام کے بعد بچوں کے معاملے میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
اس پورے معاملے پر ساحل آن لائن نے اُتر کنڑا ضلع کے ایس پی دیپن ایم این سے رابطہ کیا تو ایس پی نے واضح کیا کہ بچوں کو نہ تو پولیس نے گرفتار کیا ہے اور نہ ہی انہیں پولیس کسٹڈی میں لیا گیا ہے، بلکہ ان کے خلاف جیونائل جسٹس ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق پولیس کو شکایت موصول ہوئی ہے کہ بچے اپنے گھروں کی چھت پر کھڑے ہوکر گنیش وسرجن جلوس پر پتھراؤ کررہے تھے۔
تاہم، جب ایس پی کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی کہ پولیس کو دستیاب بتائی جانے والی ویڈیو میں بچے چھت پر آپس میں کھیلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ خواتین بھی معمول کے مطابق جلوس دیکھنے کے لئے چھت پر موجود نظر آتی ہیں، اور ویڈیو میں کسی بچے کو جلوس کی جانب کچھ پھینکتے ہوئے واضح طور پر دکھائی نہیں دیتا، تو ایس پی نے کہا کہ اس معاملے کی انکوائری کی جارہی ہے۔

دوسری جانب بھٹکل میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جارہا ہے کہ مقامی پولیس بی جے پی اور سنگھ پریوار کے دباؤ میں کارروائی کررہی ہے۔ اس الزام کے بارے میں پوچھے جانے پر ضلع ایس پی نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے اور یہ الزام بے بنیاد ہے۔ ایس پی نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ گلمی میں مسجد پر پتھراؤ کے معاملے میں پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف غیر ضمانتی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ جب اس جانب توجہ دلائی گئی کہ دونوں افراد کو صبح گرفتار کرنے کے بعد شام ہی میں رہا کردیا گیا، تو ایس پی نے کہا کہ پولیس کا کام ملزمین کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنا ہے، جبکہ عدالت سے ضمانت پر رہائی عدالتی کارروائی کا حصہ ہے۔
اسی دوران انجمن گراونڈ سے متصل عوامی چبوترے پر گنیش وسرجن کے لئے آٹو رکشہ یونین کی جانب سے لگائے گئے ٹینٹ پر جمعہ کو مبینہ پتھراؤ کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ آٹو رکشہ یونین کی جانب سے اس سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔
اس واقعے کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ہر جمعہ کی طرح اس جمعہ کو بھی انجمن گراونڈ میں صبح کے وقت بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ بعض حلقوں میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کرکٹ کی گیند ٹینٹ کی جانب گئی ہوگی، تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بچے جس مقام پر کرکٹ کھیلتے ہیں وہ ٹینٹ سے خاصا فاصلے پر ہے اور وہاں سے گیند کا ٹینٹ تک پہنچنا آسانی سے ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
مقامی سطح پر ایک اور سوال یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ جس ٹینٹ پر پتھراؤ کی شکایت درج کی گئی ہے، وہاں پہلے ہی پولیس کی سیکیورٹی موجود تھی۔ مزید یہ کہ ٹینٹ کے سامنے ہی پولیس تھانہ بھی واقع ہے۔ یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ اگر ٹینٹ پر پتھراؤ ہوا تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو پتھر ٹینٹ پر گرنے کی خبر کیوں نہیں ہوئی؟
عوام کے بعض حلقوں میں اب یہ سوال گردش کرنے لگا ہے کہ گنیش تہوار کے اختتام کے بعد کیا پولیس کا اگلا نشانہ انجمن گراونڈ میں کرکٹ کھیلنے والے بچے تو نہیں ہوں گے؟