بھٹکل 11 ستمبر (ایس او نیوز): کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی یعنی SIR کے دوران جن 43.81 لاکھ ووٹروں کے ریکارڈ میں logical discrepancies یا 2002 کی سابقہ ووٹر لسٹ سے no-mapping جیسے مسائل سامنے آئے ہیں، ان میں حیرت انگیز طور پر ایک طرف سابق الیکشن افسر اور سابق ڈپٹی کمشنر بھی شامل ہیں، جبکہ دوسری طرف ریاست اور ملک کی متعدد معروف شخصیات کے نام بھی verification اور notice process کے دائرے میں آگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انفوسس کے شریک بانی نندن نیلکنی اور ان کے اہل خانہ، زیروڈھا کے بانی نتن کامت، نکھل کامت اور ان کی والدہ ریوتی کامت، کنّڑ فلم اداکار شیو راج کمار، بھارت رتن سائنس داں پروفیسر سی این آر راؤ، پدم شری ایوارڈ یافتہ ہریکلا حجبّا، نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین اور کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی والدہ گورمّا کے نام بھی SIR کے دوران سامنے آئے ہیں۔ تاہم ان تمام شخصیات کو باقاعدہ نوٹس serve ہونے کی بات درست نہیں، کیونکہ بعض کے نام صرف discrepancy list میں flag ہوئے جبکہ بعض کو نوٹس generate ہونے کے باوجود افسران نے خود verification مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔
لیکن آج جب دکشن کنڑا کے سابق ڈپٹی کمشنر اور ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر اے بی ابراہیم کو بھی SIR کے تحت نوٹس موصول ہونے کی خبر سامنے آئی تو معاملہ مزید دلچسپ ہوگیا، کیونکہ ابراہیم خود ایک سابق ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔ ابراہیم، جو 2013 سے 2016 تک دکشن کنڑا کے ڈپٹی کمشنر رہے، اس وقت میسور کے نرسمہاراجہ اسمبلی حلقہ کے ووٹر ہیں۔ انہیں موجودہ اور سابقہ ووٹر ریکارڈ میں نام کے فرق کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
اے بی ابراہیم نے اس معاملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے تقریباً تین دہائیوں تک سرکاری خدمت انجام دی اور خود ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کی حیثیت سے انتخابات کرائے، اس کے باوجود صرف نام کے فرق کی بنیاد پر انہیں SIR نوٹس مل گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک سابق ڈپٹی کمشنر اور انتخابی افسر کو بھی ووٹر ریکارڈ کی ایسی تکنیکی خامی کے باعث نوٹس مل سکتا ہے تو عام ووٹروں کو اس عمل میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہوگا، اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب نندن نیلکنی اور ان کے اہل خانہ کے نام 2002 کی سابقہ ووٹر لسٹ سے "unmapped" زمرے میں سامنے آئے ہیں۔ اسی طرح نتن کامت، نکھل کامت اور ان کی والدہ ریوتی کامت کے ریکارڈ میں والدین کے نام سے متعلق mismatch کی نشاندہی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان معاملات میں SIR کے تحت notice process شروع کیا گیا ہے، تاہم تمام معاملات میں نوٹس باضابطہ طور پر serve کیے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
کنّڑ فلم اداکار شیو راج کمار کا نام بھی 2002 کی ووٹر لسٹ سے mapping نہ ہونے کے باعث flag ہوا۔ حکام نے واضح کیا کہ معروف شخصیات اور VIP ووٹروں کو verification کے لیے غیر ضروری پریشانی نہیں اٹھانی پڑے گی اور بعض معاملات میں افسران خود ان کی رہائش گاہ پر پہنچ کر کارروائی مکمل کررہے ہیں۔
پدم شری ایوارڈ یافتہ ہریکلا حجبّا کا معاملہ بھی اسی سلسلے میں خاصا نمایاں ہوا۔ ان کے نام میں پرانی اور موجودہ ووٹر لسٹ کے درمیان فرق کی وجہ سے SIR کارروائی شروع ہوئی، تاہم انتخابی افسران نے ان کے گھر پہنچ کر دستاویزات کی جانچ کی اور معاملہ حل کردیا۔
اسی طرح بھارت رتن سائنس داں پروفیسر سی این آر راؤ کا نام بھی discrepancy list میں آیا، لیکن یہاں ایک اہم وضاحت سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق راؤ کا نام پرانے اور موجودہ ریکارڈ میں معمولی فرق کے باعث flag ہوا تھا، مگر انہیں باقاعدہ SIR نوٹس serve نہیں کیا گیا اور Booth Level Officer نے ان کا نام برقرار رکھنے کی سفارش کی۔
نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین کا نام بھی spelling discrepancy کے باعث verification exercise میں flag ہونے کی اطلاع ہے، تاہم انہیں ذاتی طور پر انتخابی دفتر پہنچنے سے استثنیٰ دیے جانے کی رپورٹ ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی والدہ گورمّا کا نام بھی self-name mismatch کے تحت flag ہوا، جس کے بعد ان کے ریکارڈ کی جانچ کا معاملہ سامنے آیا۔تاہم بعد میں حکام نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ کی والدہ کو باقاعدہ نوٹس serve نہیں ہوا۔
الیکشن حکام کے مطابق SIR کے دوران سامنے آنے والی یہ discrepancies کسی شخص کے عہدے یا حیثیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ووٹر ریکارڈ میں موجود فرق کی بنیاد پر خودکار نظام کے ذریعے نشان زد ہورہی ہیں۔ کرناٹک میں مجموعی طور پر 43.81 لاکھ ووٹروں کے معاملات میں اس طرح کی discrepancies یا 2002 کی سابقہ فہرست سے mapping نہ ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔
اس پوری کارروائی میں اب سب سے زیادہ توجہ اس بات پر ہے کہ نام میں معمولی فرق، والدین کے نام میں تبدیلی یا 2002 کی فہرست سے mapping نہ ہونے جیسی خامیاں کس بڑے پیمانے پر ووٹروں کو verification کے دائرے میں لا رہی ہیں۔ خاص طور پر اے بی ابراہیم جیسے سابق ڈپٹی کمشنر اور سابق ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کا خود SIR نوٹس پانا اس بحث کو مزید اہم بناتا ہے کہ اگر انتخابی نظام کے سابق ذمہ دار افسر کا ریکارڈ بھی automated scrutiny میں پھنس سکتا ہے تو عام ووٹر کے لیے یہ عمل کتنا مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔
ووٹروں کا کہنا ہے کہ معروف شخصیات کے معاملات میں ان کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے یا تو نوٹس کے زمرے سے نام نکال دیے جارہے ہیں یا پھر انتخابی افسران خود ان کے گھروں پر پہنچ کر ریکارڈ کی میپنگ اور verification کررہے ہیں، لیکن غریب، متوسط طبقے اور روزانہ مزدوری کرکے گزر بسر کرنے والے عام ووٹروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
ایسے ووٹر سوال کررہے ہیں کہ ہندوستان میں پیدا ہونے والے اور مکمل دستاویزات رکھنے والے شہریوں کو، اپنا کام کاج چھوڑ کر متعلقہ فارم پُر کرنے اور ووٹر لسٹ میں اپنی تفصیلات کی میپنگ کرانے کے باوجود، آخر کیوں نوٹس جاری کیے جارہے ہیں اور ان سے ہندوستانی شہری ہونے کا ثبوت مانگا جارہا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر معروف شخصیات کے ریکارڈ میں موجود معمولی خامیوں کو گھر بیٹھے یا افسران کی جانب سے موقع پر جاکر دور کیا جاسکتا ہے تو عام شہریوں، خصوصاً دیہاڑی دار مزدوروں اور غریب خاندانوں کے لیے بھی یہی سہولت اور یکساں طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔